پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اہم اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ پارٹی نے وزیراعظم کی جانب سے بلائے گئے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق جب تک بانی چیئرمین کی ان کے ذاتی معالج سے ملاقات نہیں کرائی جاتی، پارٹی حکومت کی طرف سے بلائے گئے کسی بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوگی۔
سیاسی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ملکی و بین الاقوامی صورتِ حال پر تفصیلی غور کیا گیا اور ایران پر امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی گئی۔ اعلامیے میں 160 سے زائد طالبات کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا گیا۔
اجلاس میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی، جب کہ ملک گیر احتجاج کے دوران جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔
PRESS RELEASE
— PTI (@PTIofficial) March 3, 2026
Pakistan Tehreek-e-Insaf categorically rejects the press release issued by PIMS Administration regarding Chairman Imran Khan. Any medical examination conducted without the presence of his personal physicians and his immediate family lacks transparency and…
اعلامیے میں پرامن مظاہرین پر فائرنگ اور ریاستی تشدد کی مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
مزید کہا گیا کہ قومی سلامتی اجلاس میں شرکت بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات سے مشروط ہے۔ اعلامیے میں بانی چیئرمین کو ذاتی معالجین تک رسائی دینے کا مطالبہ کیا گیا اور 2 اکتوبر 2025 سے فیملی ملاقات بند کیے جانے پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔
پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو وہ حکومتی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی۔
قبل ازیں قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا تھا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے بریفنگ طلب کی ہے، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں بلکہ پوری پارلیمنٹ کو دی جانی چاہیے۔
عمران خان سے ملاقات تک حکومتی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے: پی ٹی آئی نے شرط رکھ دیhttps://t.co/klYLTNjBcJ
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) March 3, 2026
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر اپنے ساتھیوں سے مشاورت کریں گے اور حکومت کو کل تک اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیں گے۔
محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ بہتر ہوگا بریفنگ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس یا کم از کم سینیٹ میں دی جائے، کیونکہ خطے کی صورتِ حال خطرناک ہے، اس لیے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔






