تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے تحت کراچی میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ حکومت نے چند ہفتوں میں لیبر اور ہاؤس ہولڈ کے دو سروے جاری کیے ہیں، جن میں واضح ہوا ہے کہ ملک میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق غریب طبقہ مزید 18 فیصد نیچے چلا گیا ہے، جب کہ مجموعی طور پر ایک عام پاکستانی 12 فیصد زیادہ غریب ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2010 کے بعد سے آمدنی میں کوئی حقیقی اضافہ نہیں ہوا اور 2021 کے بعد تو حقیقی آمدنی کم ہونا شروع ہوگئی ہے۔

سابق وزیر خزانہ نے بتایا کہ 2018 میں 16 فیصد گھرانوں کو کھانے کی فکر لاحق تھی، لیکن آج یہ تعداد بڑھ کر 25 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ آج 25 فیصد لوگ نہیں جانتے کہ ان کی اگلی روٹی کہاں سے آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں ایک شخص جو چار انڈے خرید سکتا تھا، آج وہ ایک انڈہ بھی نہیں خرید پاتا۔ ملک کو معاشی طور پر بری طرح نقصان پہنچایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانچ سال پہلے شہری اپنی تنخواہ سے کچھ نہ کچھ بچا لیتا تھا، لیکن آج حالات یہ ہیں کہ قرض لینے کے باوجود بھی گھر کا خرچ پورا نہیں ہوتا۔ کئی خاندان ناشتہ تک کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ جب تک سیاست میں استحکام نہیں آئے گا، معیشت ٹھیک نہیں ہوسکے گی، اور اس کے لیے پہلا قدم حکومت کو اپنا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: گل پلازہ میں لگی آگ تاحال نہیں بجھ سکی، چھ افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

اپوزیشن رہنما نے مزید کہا کہ اب یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ 25 سال کی عمر میں ووٹ کا حق دیا جائے، اور کچھ عرصے بعد شاید یہ بھی کہا جائے کہ ووٹ کی عمر 70 سال کر دی جائے۔

گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی 18 سال سے حکمران ہے اور اگر کراچی میں آگ پر قابو نہیں پایا جا سکتا تو اندرونِ سندھ کے حالات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

آخر میں انہوں نے تجویز دی کہ غریب عوام کے مفاد میں سیاسی قیادت کو مل بیٹھ کر کوئی راستہ نکالنا چاہیے۔ محمود خان اچکزئی اور اسد قیصر حکومت سے بات کریں، کیونکہ گزشتہ چار سال سے سیاست جمود کا شکار ہے، اور صحافی برادری کو پیکا ایکٹ کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔