کراچی میں ادارہ نورِ حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم عدلیہ پر حکومتی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش ہے۔ جماعت اسلامی 26ویں ترمیم کی طرح 27ویں ترمیم کو بھی کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں ترامیم سمیت آزاد کشمیر میں خرید و فروخت کی سیاست نے عوام کا اعتماد متزلزل کر دیا ہے۔ 26ویں ترمیم نے عدلیہ کی خودمختاری کو شدید نقصان پہنچایااور اب حکومت ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلوں کا اختیار اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کر رہی ہے، جو آئین اور جمہوریت دونوں کے ساتھ کھلواڑ ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا فرانزک آڈٹ ہونا چاہیے، کیونکہ یہ پروگرام غریبوں کی مدد کے بجائے سیاسی ہتھکنڈوں کا ذریعہ بن چکا ہے۔ اگر اس کا شفاف آڈٹ کرایا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی فورسز کو غزہ بھیجا گیا اور وہ حماس کے سامنے کھڑی ہوئیں تو یہ دانش مندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔ پاکستان کو فلسطینی عوام کے حقِ آزادی کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق مہنگائی کی شرح میں پونے دو فیصد اضافہ ہوچکا ہے، جب کہ بیوروکریسی کے ہاؤس رینٹ میں 85 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب کسان اور عام طبقہ بدحالی کا شکار ہے، جب کہ بڑے جاگیردار شوگر اور فلور ملز پر قابض ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں اب چہروں کی نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی ضروری ہے۔ جماعت اسلامی 21 سے 23 نومبر تک مینارِ پاکستان، لاہور میں ’’بدل دو نظام‘‘ کے عنوان سے عظیم الشان اجتماعِ عام منعقد کرے گی۔
اجتماع میں خواتین چارٹر، قراردادِ معیشت اور نظامِ ظلم کے خاتمے کا عملی لائحہ عمل پیش کیا جائے گا۔ حافظ نعیم کے مطابق یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوگا، جس میں خواتین کی شرکت بھی تاریخی ہوگی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی میں ڈمپرز، ٹرالرز اور ٹینکرز کے حادثات میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے، اور بعض عناصر ان واقعات کو لسانی رنگ دے کر انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم عوام اب باشعور ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ لسانی نہیں بلکہ انتظامی ناکامی کا مسئلہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام نے قومی و بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو مسترد کیا تھا، لیکن فارم 47 کے ذریعے انہی قوتوں کو دوبارہ مسلط کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی کرپشن اور نااہلی کے باعث ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔ شہر کی بڑی سڑکیں کھدی ہوئی ہیں، سیوریج اور پانی کی لائنیں تباہ ہوچکی ہیں، اور جو منصوبے دو سال میں مکمل ہونے تھے، وہ دس سال بعد بھی ادھورے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ عوام کے لیے عذاب بن چکا ہے، کے-فور منصوبہ مسلسل تاخیر کا شکار ہے جب کہ ٹینکر مافیا کا راج قائم ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ جماعت اسلامی ای چالان کے خلاف ہے، حالانکہ جماعت اسلامی کرپشن زدہ اور غیر شفاف نظام کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 9 ماہ میں 50 ہزار گاڑیاں چھننے کے واقعات ہوئے لیکن کسی مجرم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ سیف سٹی پروجیکٹ 12 سال سے تاخیر کا شکار ہے۔ قاتلوں اور اسٹریٹ کرمنلز کے لیے کیمرے نہیں لگائے گئے مگر ای چالان کے لیے فوری اقدامات کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث 50 لاکھ موٹر سائیکلیں چل رہی ہیں، سڑکیں تباہ حال ہیں، لیکن شہریوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔ جہاں دیگر شہروں میں چالان 200 روپے کا ہے، وہیں کراچی میں 5000 روپے کا جرمانہ کیا جا رہا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ حماس ایک جائز اور مزاحمتی فورس ہے جس نے پوری امتِ مسلمہ کا سر فخر سے بلند کیا۔ اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود 250 فلسطینیوں کو شہید کیا ہے، اور مسلم ممالک کے اعلامیے نے واضح کر دیا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اسرائیل کر رہا ہے۔







