لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام پر پٹرول اور بجلی کی قیمتوں کی صورت میں ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور پیٹرولیم لیوی میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے، جو ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔
امیر جماعت نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں مزید اضافہ کیا تو جماعت اسلامی ملک گیر "پہیہ جام ہڑتال" کی کال دینے سے گریز نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق عوام کو سڑکوں پر آنا ہوگا تاکہ حکمرانوں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کیا جا سکے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ یکم مئی، یعنی مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، جن میں محنت کش طبقہ، کسان اور دیگر متاثرہ طبقات بھرپور شرکت کریں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ جنگی حالات کے دوران حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 138 ارب روپے سے زائد رقم جمع کی، لیکن اس کے باوجود ریفائنری کے شعبے میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آئی، یہ رقم عوامی فلاح کے بجائے دیگر اخراجات پر خرچ کی جا رہی ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف پر تنقید کا کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اس کا دباؤ ہمیشہ غریب عوام پر ٹیکس بڑھانے کے لیے ڈالا جاتا ہے، جبکہ حکمران طبقے کی شاہ خرچیاں برقرار رہتی ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی شخصیات کے لیے اربوں روپے کے طیارے خریدے جا سکتے ہیں، لیکن عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوئی گنجائش نہیں نکالی جاتی۔
آئی پی پیز کے حوالے سے انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں بجلی پیدا کیے بغیر بھی اربوں ڈالر ادا کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف عوام طویل لوڈشیڈنگ کا عذاب برداشت کرنے پر مجبور ہیں،یہ معاہدے قومی خزانے پر بوجھ ہیں اور انہیں فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔
پنجاب حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسانوں کا استحصال کیا جا رہا ہے اور انہیں ان کی محنت کا مناسب معاوضہ نہیں مل رہا،سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود سرکاری اشتہارات پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جو وسائل کا ضیاع ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے مزید کہا کہ سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے کی پالیسی کے باعث غریب عوام سے تعلیم اور علاج کا بنیادی حق چھینا جا رہا ہے، جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
مزید پڑھیں: بنو قابل پروگرام: اب تک 14 لاکھ نوجوان رجسٹر ہو چکے، 40 فیصد سے زائد خواتین ہیں، حافظ نعیم الرحمان
عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں نے مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام کا شکار کیا ہے، تاہم اب خلیجی ممالک کو بھی یہ احساس ہو رہا ہے کہ بیرونی طاقتوں پر انحصار ان کے لیے محفوظ راستہ نہیں۔
حافظ نعیم نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ سفارتی کوششوں کے ذریعے عالمی سطح پر اپنا مثبت کردار اجاگر کیا ہے، جس سے ملک کا وقار بلند ہوا ہے۔ تاہم ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں مکمل خودمختاری اختیار کرے۔
آخر میں امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ موجودہ نظام میں صرف چہروں کی تبدیلی سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ ایک بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے،جماعت اسلامی عوامی طاقت کے ذریعے حکومت پر دباؤ بڑھائے گی تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔







