امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی مظاہرین پر فائرنگ ، تشدد کی پرزورمذمت کرتے ہیں، حکومت نے انتہائی ظالمانہ اقدام اٹھایا، واقعہ کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔   

انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ہونے والے مارچ پر پولیس نے مرید کے میں فائرنگ کی۔ یہ ریاستی جبر اور تشدد کی بدترین مثال ہے۔ 

انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکمرانوں نے مظاہرین سے بات چیت کیوں نہیں کی؟ ان کا کہنا تھا کہ اظہار رائے اوراحتجاج کو روکنے کے لیے حکومت جس ڈگر پر چل پڑی ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔ 

جماعت اسلامی کی جانب سے باربار حکومت و ریاست کو اس جانب متوجہ کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹی ایل پی گرفتار قیادت اور کارکنان کو فوری رہا کیا جائے۔ واقعہ کی شفاف وغیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔


آئی جی اور وزیرِ داخلہ کی زیر نگرانی رات گئے آپریشن


خیال رہے کہ پنجاب کے شہر مریدکے میں پولیس نے پیر اور منگل کی درمیانی شب کالعدم مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے مارچ کے شرکا کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے انہیں منتشر کر دیا۔ یہ مارچ گزشتہ چار روز سے لاہور سے بذریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد کی جانب رواں دواں تھا۔

ذرائع کے مطابق رات گئے وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور مریدکے پہنچے اور انہوں نے خود آپریشن کی نگرانی کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران مارچ کے تمام شرکا کو منتشر کر دیا گیا۔

تاہم کچھ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مرکزی کنٹینر کو آگ لگا دی گئی، جبکہ علاقے میں دھوئیں کے بادل اٹھتے رہے۔

پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دو اہلکار ہلاک ہوئے، جن میں ایس ایچ او فیکٹری ایریا شیخوپورہ شہزاد نواز بھی شامل ہیں۔

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’’تحریک لبیک کے مسلح جتھوں کی فائرنگ سے ہمارے دو جوان شہید ہوئے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ امن و امان میں خلل ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور شرپسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

حکومت کی مظاہرین کو احتجاجی مارچ روکنے کی اپیل 

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے اتوار کو تحریک لبیک سے اپیل کی تھی کہ وہ اسلام آباد کی جانب اپنے احتجاجی مارچ کو منسوخ یا مؤخر کر دے، کیونکہ ملک کو اس وقت قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔

حکومت کے مطابق، پاک فوج کو افغان سرحد پر بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں داخلی انتشار نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ مارچ گزشتہ ہفتے لاہور سے شروع ہوا تھا اور مریدکے تک پہنچ چکا تھا، جو لاہور سے تقریباً 33 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

جماعت کا کہنا تھا کہ وہ امریکی سفارتخانے کے باہر مظاہرہ کر کے فلسطینی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرنا چاہتی ہے۔

جڑواں شہروں میں جزوی طور پر پابندیاں ہٹادی گئیں

دوسری جانب، اتوار کو اسلام آباد اور راولپنڈی میں کئی دنوں کی پابندیوں کے بعد اہم شاہراہیں جزوی طور پر کھول دی گئیں اور موبائل انٹرنیٹ سروس بھی بحال کر دی گئی۔ تاہم، کچھ مقامات بشمول فیض آباد تیسری روز بھی بند رہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس نازک وقت پر جب پاکستان اپنی سرحدوں کے تحفظ پر مرکوز ہے، تحریک لبیک کو اپنا احتجاج مؤخر کر دینا چاہیے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’غزہ کا مسئلہ سفارتی حل کے قریب ہے، اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی تیسرے روز بھی برقرار ہے، اس لیے اب مزید احتجاج کی ضرورت نہیں۔‘‘

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ یہ مارچ دراصل حکومتِ پاکستان کے امن کے مؤقف کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر ہونا چاہیے تھا، کیونکہ عالمی برادری پاکستان کی کوششوں کو سراہ رہی ہے۔

تاہم، حکومت کی اپیل کے باوجود تحریک لبیک نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا۔ جماعت کے ترجمان ریحان خان نے عرب نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ اگر حکومتی مذاکرات ناکام ہوئے تو مارچ بدستور جاری رکھا جائے گا۔ ان کے بقول، ’’اگر مذاکرات سے کوئی نتیجہ نہ نکلا تو ہم اپنے منصوبے کے مطابق اسلام آباد کی جانب بڑھیں گے۔‘‘