اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انڈین دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف ایک مضبوط قرارداد منظور کی گئی۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ اسلامی سربراہی کانفرنس کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس فوری طور پر بلایا جائے تاکہ انڈیا کے خلاف بین الاقوامی سطح پر مؤثر سفارتی صف بندی کی جا سکے۔

شوریٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کو دوبارہ اور بھرپور انداز میں زیرِ بحث لانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔

قرارداد میں حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کشمیری عوام کا حقِ مزاحمت بحال کرے اور مجاہدین کی ہر سطح پر بھرپور مدد کو یقینی بنائے۔

اجلاس کے دوران زراعت اور کسانوں کو درپیش سنگین مسائل پر بھی ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ گزشتہ مالی سال 2025 کسانوں کے لیے معاشی اعتبار سے مشکل ترین سال ثابت ہوا۔

اعداد و شمار کے مطابق گندم کی پیداوار میں تقریباً 9 فیصد جبکہ کپاس کی پیداوار میں ہدف کے مقابلے میں 31 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں زرعی معاشی ترقی کی شرح 0.5 فیصد سے بھی کم ہو گئی۔

قرارداد میں خبردار کیا گیا کہ رواں سال حکومت کو غذائی تحفظ کے نام پر بھاری رقوم خرچ کرنا پڑیں گی، جب کہ پانی کا شدید بحران ملکی زراعت کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔

مجلسِ شوریٰ نے مطالبہ کیا کہ زرعی مداخل کو سستا کیا جائے اور آئندہ بجٹ میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں واضح کمی کی جائے تاکہ کسانوں پر بوجھ کم ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں:  بنگلہ دیش میں عام انتخابات ، پاکستان اور انڈیا کی دلچسپی کے لیے کیا؟

اس کے علاوہ چھوٹے اور متوسط درجے کے کسانوں کے لیے بلاسود یا کم سود زرعی قرضوں کا شفاف نظام نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

قرارداد میں قدرتی آفات سے متاثرہ کسانوں کے لیے فوری طور پر زرعی انشورنس اسکیم نافذ کرنے پر بھی زور دیا گیا، تاکہ کسانوں کو مالی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

اجلاس میں شریک اراکین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی کسانوں کے حقوق اور مسئلہ کشمیر پر ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گی۔