نجی نشریاتی ادراے کے مطابق حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ایک سال قبل ہی واضح کر دیا تھا کہ حکومت نظام چلانے میں ناکام ہو چکی ہے، اب حکومت خود اپنی ناکامی کا اعتراف اور اظہار کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئینی طریقہ کار کے مطابق نئے انتظامی یونٹس بنانا غلط نہیں۔ پنجاب اسمبلی سے بہاولپور اور جنوبی پنجاب، جب کہ خیبر پختونخوا اسمبلی سے ہزارہ صوبہ بنانے کی قراردادیں منظور ہو چکی ہیں، تو اسمبلیوں سے منظور ہونے والی ان قراردادوں پر اب تک عمل کیوں نہیں ہوا؟
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کی آواز اس لیے اٹھتی ہے کیونکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جاتے۔ بیوروکریسی اور صوبائی حکومتوں کے پاس اختیارات کے ارتکاز سے معاملات خراب ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں بھی صوبہ بنانے اور بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کا مطالبہ اسی وجہ سے اٹھتا ہے۔ کراچی کے شہریوں کو بنیادی حقوق نہ ملنے سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ جب کراچی کے لوگوں کو روزگار کے مواقع نہیں ملیں گے تو وہ اسی طرح کے مطالبات کریں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے پٹرول کی موجودہ قیمت کو بھی ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ 16 اگست کو چاروں صوبوں میں دھرنے دیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا اور سندھ میں گورنر ہاؤسز کے سامنے دھرنے دیے جائیں گے۔







