قانونی نوٹس میں الزامات واپس لینے، غیر مشروط عوامی معافی مانگنے، مبینہ الزامات کے شواہد فراہم کرنے اور ایک ارب روپے ہرجانے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ قانونی نوٹس جماعتِ اسلامی کراچی کے جنرل سیکریٹری توفیق الدین صدیقی کی ہدایات پر وکیل طاہر اقبال ملک کی جانب سے جاری کیا گیا۔

نوٹس میں شبر زیدی سے کہا گیا ہے کہ وہ سات روز کے اندر جماعتِ اسلامی کے خلاف اپنے مبینہ الزامات پر وضاحت اور مطالبات کا جواب دیں، بصورتِ دیگر جماعتِ اسلامی نے قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھا ہے۔

معاملہ شروع کہاں سے ہوا؟

قانونی نوٹس کے مطابق شبر زیدی نے ایک انٹرویو/پروگرام کے دوران جماعتِ اسلامی کے احتجاجی سیاست اور عوامی مسائل سے متعلق کردار پر سخت الزامات عائد کیے۔ نوٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ گفتگو بعد ازاں یوٹیوب، فیس بک، ایکس، ٹک ٹاک، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی گردش کرتی رہی۔

نوٹس میں شبر زیدی سے منسوب بعض بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے جماعتِ اسلامی کو عوامی جذبات کو محدود کرنے اور احتجاجی تحریکوں کو کمزور کرنے کے لیے ’فائر وال‘ قرار دیا۔

قانونی نوٹس میں یہ بھی درج ہے کہ شبر زیدی نے جماعتِ اسلامی کے احتجاجی مظاہروں کے بارے میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ کسی بڑے عوامی مسئلے پر جماعت محدود تعداد میں افراد کو باہر لا کر احتجاج کا حجم کم کر دیتی ہے۔

سب سے اہم الزام کیا تھا؟

نوٹس کے مطابق پروگرام کے دوران اینکر نے شبر زیدی سے براہِ راست سوال کیا کہ ”کیا جماعتِ اسلامی پیسے لیتی ہے؟“ جس پر شبر زیدی نے مبینہ طور پر ”سو فیصد، سو فیصد“ جواب دیا۔

جماعتِ اسلامی کے وکیل نے قانونی نوٹس میں اسی جواب کو بنیادی نکتہ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ محض سیاسی تنقید یا رائے نہیں بلکہ جماعت کے بارے میں مالی بدعنوانی اور خفیہ ادائیگیوں کا ایک قطعی الزام بنتا ہے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اس بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ جماعتِ اسلامی یا اس کی قیادت مبینہ طور پر عوامی احتجاج کو محدود یا کمزور کرنے کے عوض مالی رقوم وصول کرتی ہے۔

تاہم یہ تمام الزامات قانونی نوٹس میں جماعتِ اسلامی کی جانب سے شبر زیدی کے بیان کی تشریح اور اس پر اعتراض کے طور پر بیان کیے گئے ہیں، جب کہ نوٹس میں شبر زیدی کی طرف سے ان الزامات کے حق میں کسی مخصوص مالی یا دستاویزی ثبوت کی موجودگی کا ذکر نہیں کیا گیا۔

جماعتِ اسلامی کا قانونی مؤقف کیا ہے؟

قانونی نوٹس میں جماعتِ اسلامی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سیاسی جماعت کی پالیسیوں، احتجاج، کارکردگی یا حکمتِ عملی پر تنقید کرنا ہر شہری کا حق ہے، تاہم کسی سیاسی جماعت پر رشوت، خفیہ مالی معاونت یا کسی ادارے کے لیے کام کرنے جیسے الزامات عائد کرنے کے لیے قابلِ اعتبار شواہد ضروری ہیں۔

وکیل کے مطابق شبر زیدی کے مبینہ بیانات جماعتِ اسلامی کی ساکھ، اس کی قیادت، کارکنوں، حامیوں، ووٹرز اور عطیہ دہندگان کے اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں۔

نوٹس میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شبر زیدی چونکہ ماضی میں ایف بی آر کے چیئرمین جیسے اہم سرکاری عہدے پر فائز رہ چکے ہیں، اس لیے مالی معاملات سے متعلق ان کے بیانات عام ناظرین پر زیادہ اثر ڈال سکتے ہیں۔

ثبوت کہاں ہیں؟ جماعتِ اسلامی کا سوال

قانونی نوٹس میں شبر زیدی سے مبینہ مالی ادائیگیوں کے بارے میں تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔

وکیل نے ان سے کہا ہے کہ اگر ان کے پاس جماعتِ اسلامی کو مبینہ طور پر دی جانے والی رقوم سے متعلق معلومات یا شواہد موجود ہیں تو ان کی مکمل تفصیل فراہم کی جائے، جس میں مبینہ رقم دینے والے اور وصول کرنے والے کی شناخت، رقم کی مقدار، تاریخ، وقت، مقام، ادائیگی کا طریقہ اور متعلقہ احتجاج یا عوامی مسئلے کی تفصیل شامل ہو۔

اس کے علاوہ نوٹس میں بینک ریکارڈ، ادائیگی کی رسید، معاہدے، مالی دستاویزات، گواہوں، تحقیقات، آڈٹ رپورٹس، عدالتی فیصلوں، خط و کتابت، ریکارڈنگز یا کسی بھی ایسے مواد کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں جو مبینہ الزام کی بنیاد ہو سکتے ہیں۔

جماعتِ اسلامی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر ایسے شواہد موجود نہیں تو الزام کی بنیاد پر سوال اٹھتا ہے۔

سیاسی تنقید اور الزام میں فرق

قانونی نوٹس میں ایک اہم نکتہ یہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی کارکردگی اور احتجاجی سیاست پر تنقید اور کسی جماعت پر مالی بدعنوانی کا الزام لگانے میں فرق ہے۔

نوٹس کے مطابق شبر زیدی جماعتِ اسلامی کے احتجاج کی تعداد، حکمتِ عملی، اثرات یا سیاسی فیصلوں سے اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن جماعت کے مطابق کسی مظاہرے کو مالی ادائیگی کے نتیجے میں ہونے والا اقدام قرار دینا ایک الگ نوعیت کا دعویٰ ہے، جس کے لیے قابلِ تصدیق ثبوت درکار ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ قانونی نوٹس میں شبر زیدی کے ’سو فیصد‘ والے جواب کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے، کیونکہ جماعتِ اسلامی کے وکیل کے مطابق اس سے بیان میں یقین اور قطعیت کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔

جماعتِ اسلامی نے کیا مطالبات کیے؟

قانونی نوٹس میں شبر زیدی سے متعدد مطالبات کیے گئے ہیں۔ ان میں جماعتِ اسلامی کے خلاف مبینہ الزامات فوری طور پر واپس لینا، انہیں دوبارہ نشر یا شیئر نہ کرنا اور غیر مشروط تحریری معافی مانگنا شامل ہے۔

جماعتِ اسلامی نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ شبر زیدی ایک ویڈیو کے ذریعے بھی معافی اور تردید جاری کریں اور یہ تردید ان ہی ذرائع اور پلیٹ فارمز پر نمایاں طور پر نشر کی جائے جہاں اصل بیان نشر یا شیئر ہوا تھا۔

نوٹس میں یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ تردید میں واضح طور پر کہا جائے کہ جماعتِ اسلامی یا اس کی قیادت کو کسی احتجاج کو منظم یا کمزور کرنے کے عوض رقم ملنے کے حوالے سے ان کے پاس کوئی تصدیق شدہ ثبوت موجود نہیں۔

اس کے علاوہ متعلقہ ٹی وی چینل، اینکر، پروڈیوسر اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے مبینہ طور پر ہتک آمیز مواد، ویڈیوز، شارٹس، ریلز، کیپشنز اور تھمب نیلز ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

ایک ارب روپے ہرجانے کا مطالبہ

قانونی نوٹس میں جماعتِ اسلامی نے ساکھ، تنظیمی حیثیت اور عوامی اعتماد کو پہنچنے والے مبینہ نقصان کے ازالے کے لیے ایک ارب روپے یعنی 100 کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔

نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ رقم قانونی کارروائی کے ذریعے حتمی طور پر طے ہونے والی رقم سے مشروط ہے، یعنی معاملہ عدالت میں جانے کی صورت میں حتمی فیصلہ متعلقہ قانونی فورم کرے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ جماعتِ اسلامی نے مبینہ مواد کو ہٹانے، آئندہ ایسے بیانات کی تکرار روکنے، قانونی اخراجات اور دیگر دستیاب قانونی ریلیف کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

شواہد محفوظ رکھنے کی ہدایت

قانونی نوٹس صرف معافی اور ہرجانے تک محدود نہیں۔ اس میں شبر زیدی سے متعلقہ تمام ریکارڈ محفوظ رکھنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

نوٹس میں ای میلز، واٹس ایپ اور دیگر پیغامات، کال ریکارڈز اور رابطوں کی تفصیلات، تحقیقاتی نوٹس، آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگز، خام فوٹیج، اینکر اور پروڈیوسر کے ساتھ رابطے، مبینہ الزامات کی بنیاد بننے والی دستاویزات، سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور معلومات فراہم کرنے والے افراد کی تفصیلات محفوظ رکھنے کا کہا گیا ہے۔

وکیل نے خبردار کیا ہے کہ قانونی نوٹس موصول ہونے کے بعد متعلقہ مواد کو حذف یا تبدیل کرنے کی صورت میں اسے عدالت یا متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔

سات دن کی مہلت

نوٹس میں شبر زیدی کو مطالبات پورے کرنے کے لیے سات روز کی مہلت دی گئی ہے۔

جماعتِ اسلامی کے وکیل کے مطابق مقررہ مدت میں مطالبات پر مکمل عمل نہ ہونے کی صورت میں جماعتِ اسلامی کو شبر زیدی کے خلاف مناسب قانونی، سول، فوجداری اور ریگولیٹری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ممکنہ کارروائی میں ہرجانے کا دعویٰ، حکمِ امتناعی، مواد ہٹانے اور تردید جاری کرنے کے احکامات، قانونی اخراجات اور دیگر دستیاب قانونی چارہ جوئی شامل ہو سکتی ہے۔

معاملہ اب کس مرحلے پر ہے؟

فی الحال یہ معاملہ قانونی نوٹس کے مرحلے میں ہے۔ اب اگلا مرحلہ شبر زیدی کے جواب سے واضح ہوگا۔ اگر وہ اپنے بیان کے حق میں شواہد پیش کرتے ہیں تو تنازع ایک مختلف رخ اختیار کر سکتا ہے اور اگر وہ الزام واپس لیتے ہیں یا معافی مانگتے ہیں تو قانونی معاملہ کسی اور سمت جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر جماعتِ اسلامی کی جانب سے عدالت یا دیگر متعلقہ فورمز سے رجوع کرنے کی صورت میں اصل قانونی بحث شواہد، بیان کے سیاق و سباق، نیت، ساکھ کو پہنچنے والے مبینہ نقصان اور قابلِ اطلاق قوانین کے تحت طے ہوگی۔