نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق  بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے وفد نے اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی، جس میں اپوزیشن لیڈر کے تقرر کے طریقہ کار پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر کے ساتھ ہونے والی ملاقات مثبت رہی اور اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کے حوالے سے آئینی اور پارلیمانی تقاضے واضح کر دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے دو ارکان بھی موجود تھے، تاہم پیپلز پارٹی چونکہ اپوزیشن بینچز پر نہیں بیٹھی، اس لیے ان کا اپوزیشن لیڈر کے تقرر کے عمل میں کوئی آئینی کردار نہیں بنتا۔  پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے کوئی دستاویز جمع نہیں کرائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کی اکثریت محمود خان اچکزئی کی حمایت کر رہی ہے اور آئین و قواعد کے مطابق کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔موجودہ صورتحال میں ایک مضبوط اور متفقہ اپوزیشن لیڈر کی ضرورت ہے تاکہ پارلیمنٹ میں عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے بعد پارلیمانی امور میں بہتری آئے گی اور اپوزیشن اپنا کردار زیادہ مؤثر طریقے سے ادا کر سکے گی۔