نجی نشریاتی ادارے ایکسپریس نیوز کے مطابق، جناح ٹرمینل ایئرپورٹ کے مرکزی رن وے کی تعمیرِ نو مکمل ہونے کے بعد جمعرات کی دوپہر سعودی عرب سے آنے والی بین الاقوامی پرواز نے پہلی بار اس رن وے پر کامیاب لینڈنگ کی۔ طیارے کی آمد پر پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے واٹر سیلوٹ بھی پیش کیا گیا۔
واضح رہے کہ آٹھ ارب روپے سے زائد لاگت سے مکمل ہونے والے اس منصوبے کی تکمیل میں ڈیڑھ سال لگا۔ توسیع اور جدید تعمیر کے بعد کراچی ایئرپورٹ پر بڑے کارگو طیارے اور ایئربس 380 جیسے وائیڈ باڈی جہاز بھی لینڈ کر سکیں گے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو افسر اور ایئرپورٹ منیجر عدنان خان کے مطابق رن وے کو جدید کیٹیگری فور ایف کے معیار کے مطابق تعمیر کیا گیا ہے، جس پر بڑے طیارے بشمول ایئربس 380 بھی اتر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ رن وے 07 ایل/25 آر کی تکمیل کے بعد اس کی درجہ بندی بھی اپ گریڈ کر دی گئی ہے اور مرکزی رن وے وائیڈ باڈی طیاروں کی ہینڈلنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
بریکنگ نیوز: Jinnah International Airport کا مرکزی رن وے اب دنیا کے سب سے بڑے مسافر طیارے Airbus A380 کی لینڈنگ کے لیے تیار ہے!یہ صرف ایک اپ گریڈ نہیں، بلکہ پاکستان کی ایوی ایشن کے لیے نیا دروازہ ہے۔
— Tariq Waseem Gujjar (@tariqwaseem110) February 19, 2026
بڑے جہاز، زیادہ مسافر، مزید بین الاقوامی پروازیں۔کراچی ایک بار پھر خطے کا اہم… pic.twitter.com/pnD4NzQ2ZK
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے کیلی بریشن کے بعد پہلی کامیاب آزمائشی لینڈنگ تین جنوری 2026 کو کی گئی تھی۔
اتھارٹی کے ڈائریکٹر پروجیکٹ حافظ زاہد اسحاق نے بتایا کہ آٹھ ارب روپے سے زائد لاگت سے مکمل ہونے والا یہ منصوبہ 18 ماہ کی ریکارڈ مدت میں اس انداز سے مکمل کیا گیا کہ اس دوران ملکی اور بین الاقوامی پروازوں کی آمدورفت بلا تعطل جاری رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ رن وے کی توسیع اور تعمیرِ نو کے نتیجے میں اس کی لمبائی اور چوڑائی میں اضافہ کیا گیا ہے، جب کہ زیادہ وزن کے حامل طیاروں کا بوجھ برداشت کرنے کے لیے خصوصی مواد استعمال کیا گیا ہے۔ طیاروں کی آمد کے دوران بہتر رہنمائی کے لیے جدید لائٹنگ سسٹم نصب کیا گیا ہے اور ٹیکسی ویز کو بھی بہتر بنایا گیا ہے، جس سے آئندہ 25 سے 30 سال کے لیے آپریشنل صلاحیت اور حفاظتی معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔
پروجیکٹ ڈائریکٹر کے مطابق ناموافق موسمی حالات کے پیشِ نظر کیٹیگری ون کا نظام نصب کیا گیا ہے، جسے ضرورت پڑنے پر مزید جدید بنایا جا سکتا ہے۔






