محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان، پنجاب اور جنوبی خیبرپختونخوا میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے، جبکہ گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور شمالی خیبرپختونخوا میں اوسط سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔
پی ایم ڈی کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے بڑے شہروں میں موسلادھار بارشیں نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا سبب بن سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گلگت بلتستان، بالائی خیبرپختونخوا اور کشمیر میں گلیشیئر تیزی سے پگھل سکتے ہیں، جس سے برفانی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلاب کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔
محکمہ موسمیات نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں معمول سے کم بارشوں کے باعث خریف کی فصلوں کو پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے آبپاشی کی ضرورت میں اضافہ ہوگا۔
پی ایم ڈی کے مطابق موسم کے دوران تیز ہوائیں، گردوغبار کے طوفان، گرج چمک اور ژالہ باری بھی متوقع ہے، جو فصلوں، باغات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ جنوبی پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں وقفے وقفے سے ہیٹ ویو کی صورتحال پیدا ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ طویل گرم اور مرطوب موسم ڈینگی سمیت مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: حافظ نعیم الرحمان کا کشمیر کی صورتحال پر اہم مشاورتی اجلاس؛ حکومت فوری مذاکرات شروع کرے
پی ایم ڈی نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ شدید گرمی کے دوران غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، زیادہ پانی استعمال کریں اور ہلکے رنگ کے لباس پہنیں، جبکہ کسانوں کو کھڑی فصلوں کے تحفظ کے لیے بروقت اقدامات اور سیاحوں کو خراب موسم کے دوران متاثرہ علاقوں کا سفر احتیاط سے کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔







