یہ فیصلہ 2024 میں جولائی کی عوامی بغاوت کے دوران ضلع کُشتیا میں چھ افراد کے قتل سے متعلق مقدمے میں سنایا گیا۔ اسی مقدمے میں محبوب العالم حنیف کو دیگر الزامات کے تحت عمر قید با مشقت کی سزائیں بھی دی گئی ہیں۔
مقدمے میں محبوب العالم حنیف سمیت چار ملزمان نامزد تھے۔ دیگر ملزمان میں کُشتیا ضلع عوامی لیگ کے صدر صدرالدین خان، جنرل سیکریٹری اظہر علی اور شہر عوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری عطاؤ الرحمٰن آتا شامل ہیں۔ ان تینوں کو بھی مختلف الزامات کے تحت عمر قید اور تاحیات با مشقت قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
چاروں ملزمان مفرور ہیں۔ ٹریبونل نے تمام سزا یافتہ ملزمان کی غیر منقولہ جائیداد کا نصف حصہ ضبط کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ فیصلے کے مطابق ضبط شدہ جائیداد فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم جولائی فاؤنڈیشن یا کسی دوسرے قانونی ادارے کے ذریعے تحریک کے دوران ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کو معاوضے کے طور پر دی جائے گی۔
محبوب العالم حنیف کون ہیں؟
محبوب العالم حنیف عوامی لیگ کے سینئر رہنما اور جوائنٹ جنرل سیکریٹری ہیں۔ ان کا تعلق ضلع کُشتیا سے ہے اور وہ ماضی میں کُشتیا-3 کے حلقے سے کئی مرتبہ رکن پارلیمان منتخب ہو چکے ہیں۔
وہ طویل عرصے تک عوامی لیگ کی مرکزی قیادت کا حصہ رہے اور 2009 میں پارٹی کے جوائنٹ جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔ اسی سال سے 2013 تک انہوں نے شیخ حسینہ کے خصوصی معاون کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، جو اس وقت بنگلہ دیش کی وزیر اعظم تھیں۔







