کے فور منصوبے کا باقاعدہ آغاز وفاقی اور سندھ حکومت کے اشتراک سے مالی سال 2015-16 میں کیا گیا تھا، جسے 2018 میں مکمل ہونا تھا۔ منصوبے کا مقصد ضلع ٹھٹھہ کی کینجھر جھیل سے پائپ لائنوں کے ذریعے کراچی کو پانی فراہم کرنا ہے۔

ابتدائی منصوبے کا ڈیزائن روزانہ 650 ملین گیلن پانی کراچی منتقل کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، تاکہ شہر میں پانی کی قلت پر قابو پایا جاسکے۔

تاہم منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلی، تکمیل میں تاخیر، روپے کی قدر میں کمی اور افراطِ زر کے باعث اس کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ اگست 2026 میں سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے منصوبے کی دوسری نظرثانی شدہ لاگت 172 ارب روپے منظور کی۔

واپڈا کے مطابق کے فور منصوبے کے مین لائن انفراسٹرکچر پر اب تک 86 ارب روپے سے زائد خرچ ہوچکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر منصوبہ 50 فیصد سے زائد مکمل ہوچکا ہے۔

منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے لیے وفاقی بجٹ کے علاوہ مزید 70 ارب روپے کے فنڈز درکار ہیں، جبکہ وفاقی حکومت اور واپڈا نے مین پائپ لائن کا کام دسمبر 2026 یا جون 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔

پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد کراچی کو روزانہ 260 ملین گیلن پانی فراہم کیا جائے گا، تاہم اس پانی کی پمپنگ کے لیے پمپنگ اسٹیشنز کو 50 میگاواٹ بجلی درکار ہوگی، جس کا انتظام حکومت سندھ کے ذمے ہے۔

کینجھر جھیل سے کراچی تک پانی پہنچانے کے بعد شہر کے اندر ترسیل کے لیے مزید 72 ارب روپے کی لاگت سے 96 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائی جائے گی۔ اس سلسلے میں جنوری 2027 سے کراچی کی 20 سے زائد بڑی اور مصروف سڑکوں پر مرحلہ وار کھدائی شروع کیے جانے کا امکان ہے، جو 22 ماہ کے دوران مکمل کی جائے گی۔

دوسری جانب کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے مطابق شہر کے اندرونی نیٹ ورک کی تعمیر میں درپیش پیچیدگیوں کے باعث شہریوں کے گھروں تک کے فور کا پانی پہنچانے کا عمل جنوری 2029 سے پہلے ممکن نظر نہیں آتا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں پانی کی مجموعی طلب روزانہ ایک ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ شہر کو اس وقت تقریباً 65 کروڑ گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کراچی کو روزانہ تقریباً 55 کروڑ گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہے۔

کے فور منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے واٹر ٹینکرز اور دیگر متبادل ذرائع پر انحصار کیا جا رہا ہے، جہاں شہریوں کو مہنگے داموں پانی حاصل کرنا پڑتا ہے۔