لاہور میں ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی کتاب ’’سید مودودیؒ اور ان کے سیاسی افکار‘‘ کی تقریبِ پذیرائی سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ یہ کتاب محض ایک تحقیقی کام نہیں بلکہ مولانا مودودیؒ کی فکری جدوجہد، سیاسی اصولوں اور اقامتِ دین کے تصور کا جامع خلاصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کتاب دراصل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا پی ایچ ڈی تھیسز ہے جسے کتابی شکل دی گئی ہے، جس میں موضوعات کی شاندار درجہ بندی اور مضبوط انڈیکس قاری کی رہنمائی کرتا ہے، جب کہ کتاب کا مکمل یا جزوی مطالعہ بھی مولانا مودودیؒ کے افکار کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ نوآبادیاتی دور میں اسلام کو بطور مکمل نظامِ حیات پیش کرنے کا تصور تقریباً ختم ہو چکا تھا، ایسے حالات میں مولانا مودودیؒ نے دین کی اقامت کا انقلابی تصور پیش کیا۔

انہوں نے قرآنِ کریم کی بنیادی اصطلاحات الٰہ، رب، عبادت اور دین کو ریاستی اور سماجی نظام کے تناظر میں واضح کیا اور دین کو محض عبادات کے مجموعے کے بجائے ایک مکمل نظامِ زندگی قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا مودودیؒ نے قومیت کو نسل یا وطن کے بجائے عقیدے اور نظریے سے جوڑا اور پاکستان کے قیام کے موقع پر ریاست کے اسلامی تشخص اور نظام کے حوالے سے واضح فکری رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ فکر کو عمل میں ڈھالنے کے لیے جماعتِ اسلامی کا قیام ایک تاریخی کارنامہ ہے۔

تقریب سے خطاب میں امیر جماعتِ اسلامی نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت خاندانی سیاست، غیر جمہوری رویوں اور کمزور بلدیاتی نظام کے باعث یرغمال بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں اور بلدیاتی حکومتوں کو آئینی حیثیت دی جائے۔

امیر جماعتِ اسلامی نے ایک بار پھر خواجہ سعد رفیق کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شکست تسلیم کرنے میں جرأت کا مظاہرہ کیا اور فارم 47 آنے سے قبل ہی فارم 45 کی بنیاد پر اپنی ہار کا اعلان کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے بڑے بڑے سیاسی رہنماؤں میں ایسی جرأت نظر نہیں آئی، جہاں بعض امیدواروں نے 70، 70 ہزار اضافی ووٹ شامل کروا کر فارم 47 کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔

انہوں نے کہا کہ چاہے بڑے ہوں یا چھوٹے، مرد ہوں یا خواتین، اس پورے عمل نے انتخابی نظام کو متنازع بنا دیا ہے اور سندھ میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ یہی وہ جمہوریت کا تماشا ہے جس کا آج پاکستان کو سامنا ہے، اور اسی تناظر میں اس کتاب میں ماچھی گوٹھ بورڈ 1957 کا حوالہ بھی موجود ہے، جہاں یہ بنیادی سوال اٹھایا گیا تھا کہ آیا ایسے حالات میں انتخابی سیاست کا حصہ بننا چاہیے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق موجودہ ایکٹ ظالمانہ اور غیر جمہوری ہے، جس کے تحت غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی کتاب  سید مودودی اور ان کے سیاسی افکار  کی تقریبِ پذیرائی

انہوں نے کہا کہ لاہور جیسے بڑے شہر کو محض ایک ٹاؤن قرار دینا اور اپنی ہی قیادت سے خوفزدہ ہونا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہونے چاہئیں، صوبائی اتھارٹیز کے ذریعے قبضہ سسٹم اور خاندانی نظام قائم کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئین کے آرٹیکل 148 کے تحت تمام اختیارات بلدیاتی حکومتوں کو منتقل کیے جائیں، کیونکہ مقامی حکومتیں محض ادارے نہیں بلکہ حکومت کی ایک باقاعدہ سطح ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح وفاق اور صوبے ہیں، اسی طرح بلدیاتی حکومتیں بھی ہونی چاہئیں۔ لاہور جیسے شہر کی اپنی میٹروپولیٹن حکومت اور ہر شہر کی سٹی گورنمنٹ ہونی چاہیے۔

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ بیوروکریسی کو منتخب نمائندوں کے ماتحت ہونا چاہیے، نہ کہ فیصلے مسلط کرنے والی افسر شاہی کے طور پر۔

انہوں نے کہا کہ ترقی اسی صورت ممکن ہے جب مقامی حکومتیں بااختیار ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی اس مقصد کے لیے احتجاج، دھرنوں اور عوامی جدوجہد میں مصروف ہے اور 15 جنوری سے پنجاب بھر میں عوامی ریفرنڈم مہم شروع کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی گلی محلوں، دیہات، شہروں، بازاروں اور تعلیمی اداروں تک جا کر عوام کو یہ پیغام دے گی کہ بااختیار بننا وقت کی ضرورت ہے اور غلامی کی سیاست اب مزید قبول نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ جماعتِ اسلامی 15 جنوری سے ’’بدلو نظام‘‘ تحریک کے تحت پنجاب بھر میں عوامی ریفرنڈم کا آغاز کرے گی تاکہ عوام کو بااختیار بنایا جا سکے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کی کامیابی کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ پاکستان اور امتِ مسلمہ کی ضرورت ہے۔

کتاب کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کتاب کے پس منظر پر تفصیلی روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ تصنیف کن مراحل سے گزرتے ہوئے مکمل ہوئی اور انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ اس کتاب کو دراصل پی ایچ ڈی کے مقالے کے طور پر تحریر کیا جانا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک طویل داستان ہے، تاہم مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ بعض اوقات شر میں سے بھی خیر کا پہلو نکل آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی سے ابتدا میں یہ موضوع پی ایچ ڈی کے لیے منظور ہو چکا تھا، تاہم یہ منظوری دراصل جماعتی گھرانے سے تعلق رکھنے والی محترمہ راحت بشیر کے لیے تھی۔ اس وقت شعبے کے سربراہ ڈاکٹر امان اللہ نے انہیں مشورہ دیا کہ چونکہ موضوع منظور شدہ ہے، اس لیے وہ بھی اس پر کام کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کا ذوق اور شوق سید مودودیؒ کے سیاسی افکار پر تحقیق سے وابستہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں راحت بشیر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ اس وقت برطانیہ جا چکی تھیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس دور میں فون کے ذریعے رابطہ ممکن نہ تھا، اس لیے انہوں نے خط لکھا۔ جواب آیا کہ وہ اس موضوع پر خود کام کرنا چاہتی ہیں، چنانچہ معاملہ مؤخر ہو گیا۔

ایک، دو اور پھر تین سال گزر گئے، جس کے بعد خود راحت بشیر کی جانب سے خط آیا کہ گھریلو مصروفیات کے باعث وہ یہ کام نہیں کر سکیں گی اور اب وہ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کو یہ موضوع اختیار کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔

ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے بتایا کہ انہوں نے دوبارہ ڈاکٹر امان اللہ سے رابطہ کیا اور پی ایچ ڈی کی منظوری دوبارہ حاصل ہوئی، تاہم اس دوران پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے متعدد نوٹس موصول ہوئے کہ منظوری کے باوجود مقررہ مدت گزر رہی ہے اور ابھی تک عملی کام شروع نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کے پاس آٹھ سے دس ماہ باقی تھے اور واقعی وہ اس دوران تحقیق پر خاطر خواہ کام نہیں کر سکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: میرے والد کو دو مرتبہ سویلین صدر اور ساڑھے تیرہ برس سیاسی قیدی رہنے کا منفرد اعزاز حاصل ہے، بلاول بھٹو زرداری

انہوں نے بتایا کہ اسی دوران جنرل پرویز مشرف کا مارشل لا نافذ ہوا، جس کے نتیجے میں انہیں جماعتی مصروفیات اور ذمہ داریوں سے نسبتاً فراغت ملی اور وہ یکسوئی کے ساتھ اپنے تحقیقی کام پر توجہ دے سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کچھ کریڈٹ پرویز مشرف کے دور کو بھی جاتا ہے، کیونکہ اسی دور میں انہیں تحقیق مکمل کرنے کا موقع ملا۔

انہوں نے ملک میں جمہوری عمل پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت اکثر اے بی سی سے شروع ہو کر ایکس وائی زیڈ تک نہیں پہنچ پاتی، کیونکہ درمیان میں کبھی جی ایچ کیو آ جاتا ہے اور بعض اوقات تو بغیر اعلان کے ہی جی ایچ کیو موجود ہوتا ہے، جیسا کہ آج کل بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور تقریب میں شریک تمام شرکاء سے اظہارِ تشکر کیا۔

کتاب کی تقریبِ پذیرائی میں متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں خواجہ سعد رفیق، لیاقت بلوچ، مجیب الرحمٰن شامی، سید جواد نقوی، ڈاکٹر حسین احمد پراچہ اور دیگر شامل تھے۔