پولیس کے مطابق یہ آپریشن اس وقت شروع ہوا جب مصدقہ اطلاعات ملیں کہ کالعدم گروہ کے مسلح جتھے شیری خیل، پکہ پہاڑ خیل اور نصر خیل کے سنگلاخ اور دور افتادہ علاقوں میں موجود ہیں۔
لکی مروت پولیس، سی ٹی ڈی اور فورسز نے مشترکہ آپریشن میں 10 دہشتگردوں کو مار گرایا، جبکہ 5 زخمی ہوئے اور ایک سہولت کار گرفتار ہوا۔ علاقے کی دشوار گزار پہاڑی ساخت کی وجہ سے 7 لاشیں تو نکال لی گئیں، تاہم تین لاشوں تک رسائی اب بھی ممکن نہ ہو سکی۔
ہلاک ہونے والوں میں فتنہ الخوارج کے دو مرکزی کمانڈر، نیاز علی عرف اکاشا اور عبداللہ عرف شپونکوئی بھی شامل ہیں، جو طویل عرصے سے سیکیورٹی اداروں کو مطلوب تھے۔
نصر خیل میں پولیس، سی ٹی ڈی اور امن کمیٹی نے مشترکہ کارروائی میں ایک
مطلوب دہشتگرد کو ہلاک کر دیا۔
ہوید کے مقام پر بھی پولیس اور امن کمیٹیوں کی دہشتگردوں
سے جھڑپ ہوئی۔
ڈومیل میں دہشتگردوں نے پولیس کی اے پی سی پر فائرنگ کی، تاہم اہلکاروں نے جرأت اور ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ آٹھ گھنٹے جاری رہنے والے اس طویل آپریشن میں 6 دہشتگرد ہلاک ہوئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اسی کارروائی میں بدنام زمانہ کمانڈر رسول عرف کمانڈر اَریانہ مارا گیا، جس کے قبضے سے اسلحہ بھی ملا۔
واضع رہے کہ آئی جی ذوالفقار حمید نے عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی دھرتی کو دہشتگردی سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا۔ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے۔






