عسکری ذرائع مطابق سیکیورٹی فورسز اپنے جوانوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے بڑے پیمانے پر انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کررہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشنزاس وقت تک جاری رہیں گے۔ جب تک تمام جوانوں کی بحفاظت بازیابی یقینی نہ بنا لی جائے۔ یہ ایک پیچیدہ اور مشکل آپریشن ہے جس میں مغویوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
آپریشن کی حساسیت اور سکیورٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس پر کوئی بھی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انڈین، افغانی اور مخصوص جماعت کے فارن ٹرولز نے بیانیہ بنانے کی کوشش کی کہ سکیورٹی فورسز نے اپنے جوانوں سے لاتعلقی ظاہر کی ۔
حالانکہ یہ ایک سفید جھوٹ ہے، پاک فوج پہلے دن سے جوانوں کی بازیابی کے لیے سرگرم ہے، جاری آپریشن کی تفصیل کبھی بھی پہلے نہیں بتائی جاتی۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں میں انٹیلی جنس آپریشن کے دوران پانچ دہشت گرد ہلاک، دو جوان شہید: پاک فوج
فتنہ الہندوستان، اور ان کے آقا یہ جان لیں کہ اگر ایک جوان کا بال برابر بھی نقصان ہوا تو فتنہ الہندوستان اوراس کے سہولت کاروں و سرپرستوں کو ملیا میٹ کرنے کا سلسلہ مزید تیز اور فیصلہ کن ہو جائے گا اور کسی کو بھی جھوٹے بیانے کے پیچھے چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی ۔







