یہ اقدام پاکستان میں جاری فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پروگرام کے آخری مرحلے کا حصہ تھا، جس کا مقصد غذائی قلت کے شکار اور کمزور طبقات کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔ اس مہم کے دوران مجموعی طور پر 8 ہزار 500 مستحق خاندانوں کو راشن فراہم کیا گیا۔
امدادی سرگرمی کے تحت تقسیم کیے جانے والے ہر فوڈ پیکج کا وزن تقریباً 97 کلوگرام تھا، جس میں بنیادی اشیائے خوردونوش شامل تھیں۔ ان پیکجز میں 80 کلو آٹا، 5 لیٹر کوکنگ آئل، 5 کلو چینی، 5 کلو دال چنا اور 2 کلو کھجور شامل تھیں، جو ایک خاندان کی بنیادی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہیں۔
یہ امداد پنجاب کے 10 اضلاع میں تقسیم کی گئی، جن میں ملتان (جلالپور پیر والا)، بہاولپور، مظفرگڑھ (علی پور)، بہاولنگر، راجن پور، ننکانہ صاحب، خانیوال (کبیر والا)، رحیم یار خان، چنیوٹ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ شامل ہیں۔ ان اضلاع میں زیادہ تر وہ علاقے شامل تھے جو حالیہ سیلاب سے شدید متاثر ہوئے تھے اور جہاں کے رہائشی ابھی تک بحالی کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق اس بڑے امدادی آپریشن کو شفاف اور منظم بنانے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ طور پر کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ شراکت دار اداروں حیات فاؤنڈیشن اور پیس اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے بھی اس عمل میں بھرپور تعاون فراہم کیا۔
یاد رہے کہ اس نوعیت کی امدادی سرگرمیاں نہ صرف فوری ریلیف فراہم کرتی ہیں بلکہ متاثرہ علاقوں میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ خاص طور پر ایسے حالات میں جب قدرتی آفات کے باعث بڑی تعداد میں لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہو جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاری، حلقہ بندیوں کا عمل شروع
کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ادارہ دنیا بھر میں ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے سرگرم عمل ہے اور پاکستان میں بھی انسانی ہمدردی کے تحت مختلف منصوبے جاری رکھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ اس اقدام سے نہ صرف ہزاروں خاندانوں کو فوری سہارا ملا ہے بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان فلاحی تعاون کے تعلقات کو بھی مزید تقویت ملی ہے، جو مستقبل میں مزید مشترکہ منصوبوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔







