تفصیلات کے مطابق اسپن کاریز میں پی ایم ڈی سی آفس کے قریب واقع کوئلے کی کان زور دار دھماکے کے بعد منہدم ہوگئی، جس کے بعد صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) اور دیگر امدادی اداروں نے موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔
پی ڈی ایم اے نے رضاکاروں اور ایمبولینسز کو جائے وقوعہ روانہ کیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 25 افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
صوبائی وزیر معدنیات شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک 14 کان کنوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جب کہ مزید مزدوروں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ان کے مطابق خدشہ ہے کہ ملبے تلے مزید 24 افراد دبے ہوئے ہیں۔
Blast at #Pakistan coal mine complex kills at least 11, dozens missing, official says https://t.co/l48hw1qYXu
— Giovanni Staunovo🛢 (@staunovo) July 30, 2026
شعیب نوشیروانی نے کہا کہ دشوار حالات کے باوجود امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں اور حکومت جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جاں بحق کان کنوں کے ورثا کو فی کس 5 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 3 لاکھ روپے مالی امداد دی جائے گی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور ریسکیو آپریشن سے متعلق تفصیلات معلوم کیں۔
وفاقی وزیر نے متاثرہ کان کنوں اور ان کے اہل خانہ سے اظہارِ ہمدردی کیا، جبکہ گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان نے انہیں ریسکیو آپریشن مزید تیز کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ کان کنوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔






