نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق منعم ظفر کا نے کہا کہ ہم نے اپنے وسائل سے 30 ہزار مین ہول کور بنائے، لیکن حادثے کے بعد بھی ہمیں شاول اور ڈیزل تک جمع کرنا پڑا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرتضیٰ وہاب سمیت کوئی بھی ذمہ دار افسر رات کو موقع پر نہیں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں کوئی منصوبہ وقت پر مکمل نہیں ہوتا۔ دنیا بھر میں جب تعمیراتی کام ہوتا ہے تو متبادل راستہ دیا جاتا ہے، لیکن کراچی میں یہ سہولت موجود نہیں۔ بڑے بڑے پلازے بن جاتے ہیں مگر پارکنگ نہیں ہوتی۔
مزید پڑھیں: گٹر کے ڈھکن لگاتے ہیں لیکن نشہ کرنے والے اُکھاڑ کر لے جاتے ہیں : ترجمان سندھ حکومت
جماعت اسلامی رہنما نے مزید کہا کہ شہر کے مسائل کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہیں عوام پر مسلط کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم کے باوجود اختیارات منتقل نہیں ہوئے، ٹاؤنز کو صرف تنخواہوں کے پیسے ملتے ہیں، ترقیاتی کاموں کے لیے ایک روپیہ بھی نہیں دیا جاتا۔







