یہ انکشاف سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران کیا گیا، جہاں ایم کیو ایم کے رکن معاذ محبوب نے توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے کراچی میں ہیوی ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے حکومتی اقدامات سے متعلق سوال اٹھایا۔

صوبائی وزیر داخلہ نے ایوان کو بتایا کہ حکومت کو صورتحال کی مکمل آگاہی ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے اسمبلی کی ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی جاچکی ہے، جو مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی کر دی، نئی قیمت کیا ہے؟


ان  کا کہنا تھا کہ ٹریفک مسائل کسی ایک ادارے کے بس کی بات نہیں، اس کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور شہریوں کو مل کر ذمہ داری نبھانا ہوگی، تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں اس حساس معاملے پر سیاست چمکا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ٹریلرز پر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے اور بعض ٹریلرز کو ایک ہی دن میں متعدد بار چالان کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق کراچی میں 12 ہزار سے زائد ٹرکوں اور ڈمپروں پر ٹریکرز نصب کیے جاچکے ہیں تاکہ ان کی نگرانی ممکن بنائی جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حادثات کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنا بھی شامل ہے، آگاہی مہم کے باوجود شہری حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد نہیں کر رہے۔