منصوبے کے تحت کراچی کی تین بڑی بندرگاہوں کو مرکزی کردار حاصل ہوگا، جن میں کراچی گیٹ وے پورٹ، ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل اور قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل شامل ہیں۔
دنیا بھر سے آنے والا سامان ان بندرگاہوں پر اترے گا اور پھر ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں تک منتقل کیا جائے گا۔
اس تجارتی راہداری میں مال بردار ٹرینیں کراچی سے روانہ ہو کر ملک کے مختلف شہروں سے گزرتی ہوئی ہویلیاں پہنچیں گی، جو اس پورے روٹ کا آخری بڑا ریلوے اسٹیشن ہوگا۔ ہویلیاں میں کنٹینرز اور سامان ٹرینوں سے اتار کر ٹرکوں پر منتقل کیا جائے گا۔
اس کے بعد سامان قراقرم ہائی وے کے ذریعے چین کی سرحد کی جانب روانہ ہوگا۔ یہ تاریخی شاہراہ شمالی پاکستان کے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں سے گزرتے ہوئے براہِ راست چین کے شہر کاشغر تک رسائی فراہم کرتی ہے۔
کاشغر پہنچنے کے بعد یہ سامان چین کے جدید ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس نیٹ ورک کا حصہ بن جائے گا، جہاں سے اسے چین کے مختلف صنعتی اور تجارتی مراکز تک بھیجا جا سکے گا۔
یہ راہداری صرف چین تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے ذریعے وسطی ایشیا کے ممالک، جن میں تاجکستان، کرغزستان اور قازقستان شامل ہیں، تک بھی تجارتی رسائی ممکن ہوگی۔ مزید آگے یہی راستہ منگولیا اور روس تک سامان کی ترسیل میں بھی استعمال کیا جا سکے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ سمندری، ریلوے اور سڑک کے نظام کو یکجا کرتے ہوئے ایک جدید تجارتی پل کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جو خطے کے مختلف ممالک کو آپس میں جوڑ دے گا۔
اس نظام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ سامان کی ترسیل پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز، کم خرچ اور مؤثر ہو جائے گی، جب کہ پاکستان کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ، لاجسٹکس اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں نئی معاشی سرگرمیوں کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر فعال ہو جاتا ہے تو پاکستان صرف ایک ساحلی ملک نہیں رہے گا بلکہ ایشیا کے اہم تجارتی راستوں میں مرکزی حیثیت اختیار کر سکتا ہے، جہاں سے خطے کی بڑی معیشتوں کے درمیان تجارت گزرا کرے گی۔







