بھگونت مان نے جمعے کو انڈین پنجاب اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں 27 نومبر سے لاہور میں شروع ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں ماضی میں فرانس اور جاپان جیسے ممالک کے دوروں کی اجازت نہیں ملی، اس لیے پاکستان جانے کی اجازت ملنے کے حوالے سے بھی انہیں شکوک ہیں۔

انڈین پنجاب کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور جانا چاہتے ہیں، کیونکہ مشرقی اور مغربی پنجاب کی ثقافت، زبان اور لوگوں کی جڑیں مشترک ہیں، جب کہ دونوں خطوں کے مسائل بھی ایک جیسے ہیں۔ دونوں جانب کے لوگوں کے درمیان میل جول ہونا چاہیے۔

بھگونت مان کے خطاب کی ویڈیو ان کے سرکاری یوٹیوب چینل پر بھی موجود ہے۔ ان کی جانب سے لاہور آنے کی خواہش کے اظہار پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی تبصرے کیے، جب کہ اسمبلی میں اسپیکر کلتار سنگھ سندھواں اور دیگر ارکان نے بھی ان کے ساتھ لاہور جانے کی خواہش ظاہر کی۔

اسپیکر نے وزیراعلیٰ سے کہا کہ اگر انہیں پاکستان جانے کی اجازت مل جائے تو وہ دیگر ارکان کو بھی ساتھ لے جائیں۔ اس پر بھگونت مان نے تجویز دی کہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان سمیت پوری اسمبلی اسپیکر کی قیادت میں کرتارپور جائے۔

انہوں نے کرتارپور راہداری دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اسمبلی ارکان کو سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کے مزار پر حاضری دینے کا موقع مل سکتا ہے۔

خیال رہے کہ انڈین وزارت داخلہ نے پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں راہداری کے ذریعے آمدورفت معطل کر رکھی ہے۔ چوتھی ورلڈ پنجابی کانفرنس 27 سے 29 نومبر تک لاہور میں منعقد ہوگی۔ اس کا اہتمام پنجابی پرچار آرگنائزیشن، پنجابی لہر اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔

کانفرنس کے چیف آرگنائزر احمد رضا پنجابی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انہوں نے معروف پنجابی شاعر بابا نجمی کے ذریعے بھگونت مان سے رابطہ کیا اور انہیں کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ بھگونت مان نے باضابطہ دعوت نامہ بھیجنے کی درخواست کی تھی، جس کے بعد انہیں دعوت نامہ ارسال کر دیا گیا۔

احمد رضا پنجابی کا کہنا تھا کہ بھگونت مان کی پاکستان آمد کے لیے متعلقہ حکام کی اجازت اور ویزا درکار ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر پاکستانی حکام کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا تو وزیراعلیٰ کے دورے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ان کے مطابق ماضی کی پنجابی کانفرنسوں میں انڈیا سے بھی شرکا شریک ہوتے رہے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کے باعث گزشتہ کانفرنس میں انڈیا سے کوئی شریک نہیں ہو سکا تھا۔ اس مرتبہ بھی انڈین شہریوں کو ویزے ملنے کے حوالے سے مشکلات درپیش ہیں۔

بھگونت مان کی جانب سے لاہور آنے کی خواہش کا اظہار ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان فوجی جھڑپوں کے بعد پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے۔ دونوں جانب تجارتی اور سفارتی روابط محدود ہیں، جب کہ آمدورفت اور ویزوں کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

انڈین پنجاب کے وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر تنقید کرتے ہوئے پاکستانی پنجابی شاعر تجمل کلیم کے اشعار بھی پڑھے۔ بعدازاں اسپیکر کلتار سنگھ سندھواں نے بتایا کہ پاکستانی شاعر بابا نجمی نے بھگونت مان کے لیے نیک خواہشات کا پیغام بھیجا ہے۔

بھگونت مان نے کہا کہ دونوں پنجابوں کے لوگ اور ثقافت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ان کے درمیان رابطے اور میل جول کو فروغ دیا جانا چاہیے۔