انہوں نے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے، جہاں 60 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے اور ان کا ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے، لیکن حکومتی پالیسیوں نے اس شعبے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ گزشتہ سال زراعت کی شرحِ نمو 6.5 فیصد تھی، جو رواں مالی سال میں کم ہو کر صرف 0.5 فیصد رہ گئی ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت نے کسانوں سے دھوکا کیا، گندم کی خریداری سرکاری نرخ پر نہ کی، اور مڈل مین کو فائدہ پہنچایا۔ اس دھوکے سے مافیا امیر ہو گئے جبکہ کاشتکار خسارے میں چلے گئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں اور عوام دونوں کو سبسڈی دے، کیونکہ یہ قومی غذائی تحفظ کا مسئلہ ہے۔ یوریا، ڈی اے پی، بیج، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کسانوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ پڑوسی ممالک میں وہی کھاد پاکستانی نرخ کے مقابلے میں ایک تہائی قیمت پر دستیاب ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومتیں جاگیرداروں، شوگر مافیا اور کارپوریٹ مفادات کی محافظ بن چکی ہیں، جبکہ 97 فیصد چھوٹے کاشتکاروں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
حافظ نعیم نے اعلان کیا کہ اگر گندم کا ریٹ 4500 روپے فی من مقرر نہ کیا گیا اور حکومت نے کاشتکاروں کے مسائل حل نہ کیے، تو جماعت اسلامی اور تمام کسان تنظیمیں 24، 25 اور 26 اکتوبر کو “کسان بچاؤ، پاکستان بچاؤ کارواں” نکالیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں چاہیے بلکہ وہ کسانوں، مزدوروں اور عوام کی آواز بننا چاہتی ہے۔21, 22 اور 23 نومبر کو مینارِ پاکستان پر ہونے والے جماعت اسلامی کے اجتماع میں کسان تنظیموں کو بھرپور نمائندگی دی جائے گی۔






