تفصیلات کے مطابق انہوں نے یہ بات پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) میں ’کشمیر ویٹ اینڈ سی‘ کے عنوان سے منعقدہ فوٹوگرافی نمائش اور کتاب کی رونمائی کی اختتامی تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ فوٹوگرافر سڈریک گربیہائے نے نہایت خوبصورتی اور محنت سے اپنی تصاویر میں کشمیر کو محفوظ کیا ہے۔

انہوں نے جو کام کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ سڈریک گربیہائے نے اپنی نمائش میں کشمیر میں ہونے والے مظالم کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا، جس پر وہ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کا مسئلہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور اگر ہم اس خطے میں پائیدار امن چاہتے ہیں تو کشمیر کے مسئلے کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج نمائش میں کشمیر سے متعلق تصاویر دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ لوگوں کے دلوں میں کشمیر کے لیے کتنے گہرے جذبات موجود ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ کسی ایک پارٹی کا نہیں، ہم سب اس مقصد کے لیے متحد ہو سکتے ہیں۔ ہمیں ہر فورم پر یہ پیغام دینا چاہیے کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: کھلے مین ہول میں ماں اور بیٹی گر گئیں، تلاش جاری

اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ فوٹوگرافر سڈریک گربیہائے کو اپنی جانب سے اور خیبر پختونخوا کے عوام کی طرف سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور ہم سب مل کر کشمیر کاز کے لیے کام کریں گے۔ ہم ہر موقع پر اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو یاد رکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سڈریک کو ان کی محنت پر سلام پیش کرتا ہوں۔ آج تقریب میں سفارتکاروں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پوری دنیا کشمیر کاز کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔