وزیر دفاع نے کہا کہ حالیہ واقعات میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، متعدد اہلکار شہید ہوئے جبکہ بعض مقامات پر لاشوں کی بے حرمتی جیسے افسوسناک واقعات بھی سامنے آئے، ایسے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض عناصر عوامی مینڈیٹ اور جمہوری عمل پر یقین نہیں رکھتے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں اختلافِ رائے کا اظہار جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے تحت ہونا چاہیے، تاہم جب کوئی گروہ تشدد، خوف و ہراس اور طاقت کے استعمال کے ذریعے اپنی سوچ دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرے تو اس کے مقاصد پر سوالات اٹھنا فطری ہیں۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کو اپنی قیادت منتخب کرنے اور اپنے مستقبل سے متعلق رائے دینے کا حق حاصل ہے، جس کے تحفظ کے لیے ریاست تمام ضروری اقدامات کرے گی، انتخابات اور جمہوری عمل ہی عوامی خواہشات کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہیں اور ان راستوں کو سبوتاژ کرنے کی کسی کوشش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست مخالف سرگرمیوں، انتشار پھیلانے اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان کی بحالی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پشاور کے قریب ایف سی چوکی پر حملہ، 6 اہلکار شہید، 4 زخمی

خواجہ آصف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت خطے میں امن، استحکام اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گی تاکہ کشمیری عوام آزادانہ ماحول میں اپنی رائے کا اظہار کر سکیں اور ترقی و خوشحالی کے سفر کو آگے بڑھایا جا سکے۔

انہوں  نے کہا کہ تشدد اور انتشار کا راستہ اختیار کرنے والے عناصر نہ صرف جمہوری عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ عام شہریوں کے مفادات کے بھی خلاف کام کرتے ہیں، اس لیے ایسے اقدامات کے خلاف قانون پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آئے گا۔