انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے مذہبی ہم آہنگی، مساوات اور امن کے فروغ پر زور دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے واضح طور پر فرمایا تھا کہ پاکستان میں ہر شہری کو یہ قانونی حق حاصل ہوگا کہ وہ مسلمان ہو، عیسائی، ہندو یا سکھ، بلا خوف اپنے مذہبی مقامات جیسے مسجد، گرجا گھر، مندر یا گردوارے جا کر اپنی عبادات اور رسومات ادا کر سکے۔
انہوں نے پاکستان میں مسیحی برادری کے اہم اور تاریخی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھائیوں اور بہنوں نے تعلیم، دفاع، انصاف اور دیگر شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ وزیراعظم نے وطن پر جان نچھاور کرنے والے مسیحی شہریوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی قربانیوں کو قوم کا قیمتی اثاثہ قرار دیا۔
وزیراعظم نے اسلام کے اصولوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کے ساتھ نرمی، برداشت اور محبت سے پیش آنے اور دکھی انسانیت کی مدد کرنے کی تلقین فرمائی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی تعلیمات ایک پُرامن اور باہمی احترام پر مبنی معاشرے کی بنیاد ہیں۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی اقلیتی شہری کے ساتھ زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون ہر صورت پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آئے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان ہر برادری کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہے اور ترقی و خوشحالی کے سفر میں اقلیتوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔
تقریب کے اختتام پر وزیراعظم نے مسیحی بھائیوں اور بہنوں کو کرسمس کی مبارکباد دی اور امن، محبت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پیغام کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔







