انہوں نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز ایک شاندار اور بے مثال ادارہ تھا جو پاکستان کا فخر سمجھا جاتا تھا اور کئی بین الاقوامی ایئرلائنز کو سپورٹ بھی فراہم کرتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ جن لوگوں نے اپنی نااہلی، بدترین گورننس، سیاسی بھرتیوں اور غلط انتظامی فیصلوں سے ادارے کو تباہ کیا، وہی آج اسے کوڑیوں کے بھاؤ بیچ کر مبارک سلامت کا شور مچا رہے ہیں۔
پی آئی اے ایک شاندار اور بے مثال ادارہ تھا، پاکستان کا فخر تھا، کئی بین الاقومی ائیرلائنز کو سپورٹ کرتا تھا۔ یہ بدنصیبی ہے کہ جن لوگوں نے اپنی نااہلی، بدترین گورننس، سیاسی بھرتیوں اور غلط انتظامی فیصلوں سے اس شاندار ادارے کو تباہ کیا وہی اسے کوڑیوں کے بھاؤ بیچ کر مبارک سلامت کا… pic.twitter.com/o45wxoizqc
— Naeem ur Rehman (@NaeemRehmanEngr) December 24, 2025
حافظ نعیم الرحمان نے سوال اٹھایا کہ کیا پی آئی اے کی تباہی کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہونا چاہیے اور کیا ان کا احتساب نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال حکمرانوں کی بدترین ذہنیت کی عکاس ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ نجکاری کمیشن کے ساتھ ساتھ ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بھی بنایا جائے جو ان تمام کرداروں اور چہروں کی نشاندہی کرے جنہوں نے پی آئی اے سمیت دیگر منافع بخش قومی اداروں کو تباہ کر کے پاکستان کو ہزاروں ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔







