درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ شازیہ مری نے ہم نام طالبہ کی 2002 کی ڈگری اپنے لیے استعمال کی۔ اس پر عدالت نے کہا کہ اسی نوعیت کا اعتراض 2018 کے انتخابات میں الیکشن ٹربیونل کے سامنے بھی اٹھایا گیا تھا، جبکہ الیکشن کمیشن نے 2022 میں ڈگری سے متعلق اعتراض مسترد کر دیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیل 2023 میں واپس لینے پر خارج کر دی گئی تھی۔
شازیہ مری کے وکیل کا کہنا تھا کہ ڈگری کا معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے شواہد کے ساتھ زیرِ بحث آ چکا ہے اور الیکشن کمیشن شازیہ مری کی ڈگری سے متعلق درخواست پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ آئین کے تحت کسی شخص کو سچا اور امین قرار دینے کا اختیار عدالتی ٹربیونلز کے پاس نہیں، جب کہ کسی شخص کو نااہل قرار دینے کے لیے محض آئینی درخواست کافی نہیں۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں موجودہ درخواست قابلِ سماعت نہیں۔
یاد رہے کہ سانگھڑ سے تعلق رکھنے والے درخواست گزار عطا محمد چانڈیو نے سندھ ہائیکورٹ میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ شازیہ مری نے اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے کراچی یونیورسٹی سے وابستہ ’رونقِ اسلام گرلز کالج، لیاری‘ کی ایک دوسری طالبہ کی بی اے کی ڈگری استعمال کی تھی۔
درخواست گزار کے مطابق اصل ڈگری ’شازیہ جنت مری‘ یا ’شازیہ عطا محمد‘ نامی لڑکی کی تھی۔ دونوں خواتین کا نام اور ولدیت ایک جیسی تھی، تاہم ان کی تاریخِ پیدائش اور دیگر کوائف مختلف تھے۔
وکیلِ درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ شازیہ مری نے 2002 کے انتخابات میں بی اے کی لازمی شرط پوری کرنے کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی کارڈ بنوایا اور اپنی تاریخِ پیدائش بھی تبدیل کی تاکہ وہ ڈگری ان کے نام سے مطابقت رکھ سکے۔
سال 2015 اور 2016 کے دوران سندھ ہائیکورٹ نے کراچی یونیورسٹی سے ڈگری کا اصل ریکارڈ اور رجسٹر حاصل کرکے اپنے قبضے میں لے لیا تھا اور تفصیلی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
مارچ 2023 میں یہ معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان پہنچا۔ دورانِ سماعت عدالتِ عظمیٰ کے ججز نے ریمارکس دیے کہ شازیہ مری 2002 سے اب تک متعدد بار اسمبلی کی رکن منتخب ہو چکی ہیں، لہٰذا ٹھوس شواہد کے بغیر انہیں نااہل نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے ٹھوس ثبوت نہ ہونے اور تکنیکی بنیادوں پر کیس کو دوبارہ تفصیلی جائزے کے لیے سندھ ہائیکورٹ کو واپس بھیج دیا تھا۔







