پاکستان تحریک انصاف نے 27 مارچ کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ مختلف شاہراہوں پر کنٹینرز لگائے گئے ہیں جبکہ اسلام آباد اور پنجاب میں رینجرز بھی طلب کی گئی ہے۔
اسی دوران پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے مختلف رہنماؤں کی مبینہ حراست یا اغوا کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں، جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں اور خاندان کے دیگر افراد کو لاہور میں 30 روز کے لیے نظربند کر دیا گیا ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پارٹی کے رہنما چھپ چکے ہیں اور انہوں نے خودساختہ روپوشی اختیار کرلی ہے۔
ان کے مطابق بعض رہنما مختلف افراد کے ذریعے پیغام بھجوا رہے ہیں کہ انہیں گرفتار کیا جائے تاکہ وہ لانگ مارچ سے بچ سکیں، اس لیے انہیں لگتا ہے کہ وہ راہ فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ممکن ہے آج یا کل پی ٹی آئی کی جانب سے راہ فرار اختیار کرنے کا اعلان کردیا جائے، کیونکہ ان کے خیال میں پارٹی بغیر کسی منصوبہ بندی کے لانگ مارچ کررہی ہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے لانگ مارچ سے متعلق بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی 10 لاکھ یا 20 لاکھ افراد لانے کی صلاحیت رکھتی ہے تو اس کے رہنما اپنے حلقوں میں موجود ہونے چاہئیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما اسلام آباد کے کیفیز میں بیٹھ کر باتیں کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے لانگ مارچ کروا رہے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ لانگ مارچ ہر صورت 27 ستمبر کو ہوگا اور اس کے ذریعے وفاقی حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالا جائے گا۔
جیو نیوز سے گفتگو میں شوکت یوسفزئی نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اسلام آباد ضرور جائے گی اور جہاں روکا جائے گا وہیں بیٹھ کر احتجاج کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا تھا کہ ان کا لانگ مارچ پُرامن احتجاج ہوگا۔
دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے پولیس ایکٹ 2026 پر بھی تنقید کی اور کہا کہ حکومت پولیس کو ’ٹائیگر فورس‘ بنانا چاہتی ہے۔
خیبرپختونخوا کابینہ نے بدھ کو پولیس ایکٹ 2026 کے مسودے کی منظوری دی تھی، جس میں پولیس کے انتظامی ڈھانچے، اعلیٰ افسران کی تعیناتی اور تبادلوں سمیت پولیس پالیسی اور آپریشنز سے متعلق اختیارات میں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں اور انہیں وزیراعلیٰ کے اختیار میں دینے کی بات کی گئی ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کابینہ کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس مردانہ وار لڑ رہی ہے اور صوبے کے پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں سب سے کم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پولیس اہلکاروں کو مراعات نہیں دے سکتی لیکن چاہتی ہے کہ پولیس اس کے تابع ہو۔
گورنر نے سوال کیا کہ کیا اس قانون پر کسی دوسرے صوبے میں بھی عمل درآمد ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ ایکٹ ان کے پاس منظوری کے لیے آیا تو وہ اسے منظور نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق وہ پولیس اہلکاروں کا تحفظ کریں گے اور اس ایکٹ کے راستے میں دیوار بنیں گے۔







