سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں خصوصی دعوت پر جسٹس امین الدین خان، چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت پاکستان شریک ہوئے۔
سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق اجلاس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان، سیکرٹری وزارتِ قانون و انصاف، نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی قائم مقام چیئرپرسن، محمد منیر پراچہ اور کامران مرتضیٰ (سینئر وکلاء سپریم کورٹ) بھی شریک ہوئے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ، جسٹس (ر) ایم شعیب عثمانی اور بیرسٹر ساجد ظہیر (سینئر وکیل سپریم کورٹ) نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔
کمیشن نے اپنے قانونی مینڈیٹ کے تحت نظامِ انصاف کو بہتر بنانے کے لیے جاری اصلاحاتی اقدامات کا جامع جائزہ لیا، جن میں عائلی قوانین، ضابطہ فوجداری میں اصلاحات، مقدمات کے الیکٹرانک اندراج (ای فائلنگ) کے طریقہ کار اور دیگر شعبہ جات میں قانون سازی کی جدید کاری شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں گاڑی مالکان کی بائیو میٹرک تصدیق کے لیے پاک آ ئی ڈی ایپ کا افتتاح کردیا گیا
اہم فیصلے میں کمیشن نے ہدایت کی کہ سیکرٹریٹ مفت قانونی امداد اور مشاورتی نظام کے قیام کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کرے۔ اس ضمن میں ہائی کورٹس اور بار کونسلز کے اشتراک سے مربوط نظام وضع کیا جائے گا، جب کہ ایکسس ٹو جسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ کے متعلقہ حصے سے مالی وسائل کی فراہمی اور پرو بونو خدمات کو ادارہ جاتی شکل دینے کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
کمیشن نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی مستحق درخواست گزار وکیل کے بغیر نہ رہے اور ہر شہری کو اس کی مالی حیثیت سے قطع نظر قانونی مشورہ اور معاونت تک مؤثر رسائی حاصل ہو۔
کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایک ایسا منصفانہ، مؤثر اور قابلِ رسائی نظامِ انصاف قائم کرنے کے لیے جامع اور جوابدہ قانونی اصلاحات جاری رکھے گا، جو معاشرے کے تمام طبقات کے لیے مساوی انصاف کی ضمانت فراہم کرے۔






