ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب اسکول کی تیسری منزل پر تعمیراتی اور مرمتی کام جاری تھا۔ اسی دوران اچانک عمارت کی چھت کا ایک بڑا حصہ زمین بوس ہو گیا، جس سے نیچے موجود افراد ملبے تلے دب گئے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق اسکول میں گرمیوں کی تعطیلات کے باوجود سمر کیمپ جاری تھا اور حادثے کے وقت عمارت میں تقریباً 70 سے 80 بچے موجود تھے۔ چھت گرنے کے فوراً بعد اسکول میں بھگدڑ مچ گئی، جبکہ والدین بھی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں موقع پر پہنچ گئے۔
ریسکیو 1122، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ ملبہ ہٹا کر زخمیوں کو باہر نکالا گیا اور انہیں طبی امداد کے لیے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے 8 سالہ بچے کی شناخت فوری طور پر نہیں ہو سکی، جبکہ اس کی شناخت اور ورثا سے رابطے کی کوششیں جاری ہیں۔
مقامی رہائشیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ عمارت کی تیسری منزل پر حال ہی میں لینٹر ڈالا گیا تھا اور محض چند روز بعد ہی اسے قبل از وقت کھول دیا گیا، جس کے باعث ڈھانچہ مکمل طور پر مضبوط نہ ہو سکا اور حادثہ پیش آیا۔ اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ اگر تعمیراتی کام مقررہ حفاظتی اصولوں کے مطابق کیا جاتا تو ممکنہ طور پر اس سانحے سے بچا جا سکتا تھا۔
پولیس اور متعلقہ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ عمارت کے تعمیراتی معیار، نقشے کی منظوری، حفاظتی انتظامات اور تعمیراتی کام کی نگرانی سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، غفلت یا لاپروائی ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ادھر وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں: لاہور: سانحہ کاہنہ کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھجوا دی گئی
واضح رہے کہ چند روز قبل لاہور کے علاقے کاہنہ میں بھی ایک ٹیوشن سینٹر کی کمزور چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، جس میں متعدد بچے جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے۔ اس سانحے کے بعد صوبے بھر میں تعلیمی اداروں اور دیگر عمارتوں کے حفاظتی معیار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ شہری حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تعلیمی اداروں میں تعمیراتی کام کے دوران حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔







