تفصیلات کے مطابق بسنت کے دوران صرف ساڑھے چار گٹھی کی پتنگ اور نو تاروں والی کوٹن ڈور استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ کیمیائی یا دھات ملی ڈور پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جب کہ صرف ڈور کے پنے کی اجازت دی جائے گی۔

انتظامیہ کے مطابق لاہور میں 48 لاکھ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہیں، بسنت کے دنوں میں شہریوں کو غیر ضروری موٹر سائیکل استعمال سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔ سیفٹی راڈ کے بغیر موٹر سائیکل سواروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

لازمی پڑھیں: پاکستان سوڈان میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کے خلاف ہونے والے گھناؤنے حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، دفترِ خارجہ

سیکیورٹی کے لیے شہر بھر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جائے گی تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لاہور میں 500 رجسٹرڈ مینوفیکچررز بسنت کا سامان تیار کریں گے، جنہیں خصوصی لائسنس جاری کیے جائیں گے۔ بسنت کا سامان فروخت کرنے والے سیلرز کی تعداد ہزاروں میں ہے، تاہم صرف لاہور کے منظور شدہ مینوفیکچررز ہی پتنگ اور ڈور تیار کر سکیں گے۔

حکام کے مطابق بسنت کو محفوظ اور خوشگوار بنانے کے لیے قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔