لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت اس وقت بلند شرح سود، مہنگائی، توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور بھاری ٹیکسوں کے دباؤ کا شکار ہے، جس کے باعث کاروباری طبقہ شدید مشکلات سے دوچار ہے،  آئندہ بجٹ میں ایسا لائحہ عمل اپنانا ضروری ہے جو صنعت، تجارت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرے۔

انہوں نے تجویز دی کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس ہدف میں صرف 4 سے 5 فیصد اضافہ کیا جائے اور اسے تقریباً 14 ہزار 700 سے 14 ہزار 800 ارب روپے تک محدود رکھا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیوں پر اضافی دباؤ نہ پڑے۔ ان کے مطابق غیر حقیقی ٹیکس اہداف معیشت کو مزید سست کر سکتے ہیں۔

صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ بالواسطہ ٹیکسز، خصوصاً کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ مہنگائی کو مزید بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان ٹیکسوں کے اہداف کو قابو میں رکھا جائے تاکہ عام صارف اور صنعتی شعبہ دونوں کو ریلیف مل سکے۔

فہیم الرحمٰن سہگل کے مطابق انکم ٹیکس کا بوجھ موجودہ ٹیکس دہندگان، خاص طور پر تنخواہ دار طبقے اور صنعتوں پر مزید نہیں ڈالنا چاہیے بلکہ حکومت کو ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر ریونیو میں پائیدار اضافہ ممکن نہیں۔

لاہور چیمبر نے دفاعی اخراجات میں 10 سے 12 فیصد اضافے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر قومی سلامتی کے تقاضے بڑھ گئے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ترقیاتی بجٹ سے متعلق انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کو بڑھا کر کم از کم 1200 سے 1300 ارب روپے کیا جائے تاکہ ترقیاتی منصوبوں میں تیزی آئے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شرح سود میں کمی اور مہنگے داخلی قرضوں کی ری فنانسنگ ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ سودی ادائیگیاں بجٹ کا بڑا حصہ کھا رہی ہیں اور ترقیاتی گنجائش محدود ہو رہی ہے۔

لاہور چیمبر نے تجویز دی کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی فنی و تکنیکی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے اور اس مقصد کے لیے 100 سے 150 ارب روپے مختص کیے جائیں تاکہ ہنرمند افرادی قوت تیار کی جا سکے۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ دھماکا: آئی جی بلوچستان نے ابتدائی رپورٹ وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کو پیش کردی

پٹرولیم لیوی کے حوالے سے چیمبر نے کہا کہ ایندھن پر زیادہ ٹیکس صنعتی لاگت اور مہنگائی میں اضافہ کرتا ہے، لہٰذا اس میں کمی کی جائے تاکہ ٹرانسپورٹ اور صنعت دونوں کو ریلیف ملے۔

صدر لاہور چیمبر نے پنجاب انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ ٹیکس کاروباری لاگت بڑھا کر ملکی برآمدات اور صنعتی ترقی کو متاثر کر رہا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت آئندہ وفاقی بجٹ میں کاروباری برادری کی تجاویز کو سنجیدگی سے شامل کرے گی اور ایک ایسا معاشی فریم ورک اپنائے گی جو سرمایہ کاری، پیداوار اور روزگار کے فروغ کا باعث بنے گا۔