رائٹرز کے مطابق اگلے وسط مدتی انتخابات سے قبل سامنے آنے والے اس سروے نے امریکی سیاسی منظرنامے میں ڈیموکریٹس کے لیے حوصلہ افزا اشارے دیے ہیں، جبکہ ریپبلکن پارٹی کے لیے صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔
سروے میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کی بڑی وجوہات میں ایران کے ساتھ جاری جنگ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور مجموعی طور پر عوام کے لیے روزمرہ اخراجات میں اضافہ شامل ہیں۔
رائٹرز/اِپسوس سروے کے مطابق 71 فیصد امریکی شہری صدر ٹرمپ کی جانب سے مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے ناخوش ہیں۔ ریپبلکن ووٹرز کے ایک نمایاں حصے میں بھی اس معاملے پر تشویش سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے آزاد ووٹرز کے رجحانات بھی ڈیموکریٹس کے لیے نسبتاً بہتر دکھائی دے رہے ہیں۔ سروے میں 36 فیصد آزاد ووٹرز نے کہا کہ وہ ڈیموکریٹ امیدوار کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ 22 فیصد نے ریپبلکن امیدوار کے حق میں ووٹ دینے کا عندیہ دیا۔
سروے کے نتائج کے مطابق ڈیموکریٹ ووٹرز میں انتخابات کے حوالے سے جوش و خروش بھی ریپبلکن ووٹرز کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ تقریباً 46 فیصد ڈیموکریٹس نے خود کو ووٹ ڈالنے کے لیے انتہائی پُرجوش قرار دیا، جبکہ ریپبلکن ووٹرز میں یہ شرح 31 فیصد رہی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ کے باعث توانائی اور عالمی تیل کی منڈیوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی نے امریکی عوام کے معاشی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ جنگ کے نتیجے میں تیل کی عالمی سپلائی اور اہم سمندری راستوں سے متعلق خدشات بڑھے ہیں، جس کا اثر پٹرول اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑ رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اگست کے آخر میں کیے گئے اس سروے میں 1,167 امریکی بالغ افراد کی رائے شامل کی گئی، جبکہ سروے میں تقریباً 3 فیصد پوائنٹس کی ممکنہ غلطی کی گنجائش بتائی گئی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی منظوری کی شرح مسلسل تیسری بار 33 فیصد کی سطح پر رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبولیت میں کمی محض عارضی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس کے لیے ایک مسلسل سیاسی مسئلہ بنتی جارہی ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات نومبر میں ہونے والے ہیں اور انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کے لیے مہنگائی، توانائی کی قیمتوں اور ایران جنگ جیسے معاملات عوامی حمایت حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب ڈیموکریٹس ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت اور آزاد ووٹرز میں اپنی برتری کو وسط مدتی انتخابات میں سیاسی فائدے میں تبدیل کرنے کے لیے پرامید دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم انتخابی مہم کے دوران معاشی حالات، جنگ کی صورتحال اور عوامی ترجیحات میں تبدیلی حتمی نتائج پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔







