وزیراعظم شہباز شریف اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ علاقائی تعاون، امن و استحکام اور رکن ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ سے متعلق پاکستانی مؤقف بھی پیش کریں گے۔
بشکیک پہنچنے پر کرغزستان کے صدر صدر جباروف نے وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال کیا۔ وزیراعظم کی آمد کے بعد دونوں ممالک کے حکام کے درمیان مختلف امور پر بھی رابطے ہوئے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پوتن، انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی اور دیگر رکن ممالک کے سربراہان بھی شرکت کر رہے ہیں۔
اجلاس کے دوران رکن ممالک کے درمیان علاقائی سلامتی، باہمی تعاون، تجارت، معیشت، توانائی اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے معاملات زیر بحث آنے کی توقع ہے۔بشکیک میں سربراہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی صورتحال اور امن و استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے علاقائی امن کے لیے تحمل، بات چیت اور سفارتی رابطوں کو مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم کے دفتر کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خلیجی خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کے تبادلے کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان پہلے بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کے ذریعے اختلافات حل کرنے اور فریقین کے درمیان سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیتا رہا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام 2001 میں چین، روس اور وسطی ایشیا کی چار ریاستوں نے مل کر کیا تھا۔ ابتدا میں یہ بنیادی طور پر علاقائی سلامتی اور سکیورٹی تعاون کے فورم کے طور پر سامنے آئی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ تنظیم کے ایجنڈے میں معاشی، تجارتی، سفارتی اور علاقائی تعاون کے مختلف شعبے بھی شامل ہوتے گئے۔
گزشتہ تقریباً 25 برس کے دوران ایس سی او کے رکن ممالک کی تعداد اور تنظیم کا جغرافیائی دائرہ نمایاں طور پر وسیع ہوا ہے۔
اس وقت تنظیم کے مستقل رکن ممالک میں پاکستان، چین، روس، انڈیا، ایران، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔
اس کے علاوہ متعدد ممالک تنظیم کے ساتھ مختلف سطحوں پر بطور ڈائیلاگ پارٹنر وابستہ ہیں۔حالیہ برسوں میں چین کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم کے اقتصادی اور علاقائی کردار کو مزید وسعت دینے پر زور دیا جاتا رہا ہے۔
چین تنظیم کے پلیٹ فارم کو رکن ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، رابطوں اور ترقیاتی تعاون بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کی حمایت کرتا ہے۔
چینی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے بھی ایس سی او کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا تھا کہ تنظیم نے علاقائی تعاون کے لیے ایک نئی راہ تلاش کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
دوسری جانب روس بھی تنظیم کو ایک ایسے علاقائی پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتا ہے جہاں مغرب کے ساتھ کشیدہ تعلقات رکھنے والے ممالک ایک دوسرے کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی روابط برقرار رکھ سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ایس سی او کی اہمیت میں اضافہ اس لیے بھی ہوا ہے کہ اس کے پلیٹ فارم پر دنیا کی بڑی معیشتوں اور آبادی کے حامل متعدد ممالک موجود ہیں، تاہم تنظیم کے اہداف اور عملی پروگراموں کے حوالے سے اب بھی مختلف سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔
سربراہ اجلاس کے موقع پر روسی صدر ولادیمیر پوتن نے چین کے صدر شی جن پنگ اور انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا ذکر کیا۔
پوتن نے کہا کہ ماسکو چین کے ساتھ بغیر ویزا سفر کے نظام کو مستقل بنیادوں پر نافذ کرنے کے لیے تیار ہے۔
روسی صدر نے انڈیا کے ساتھ تعلقات کو بھی مزید مضبوط قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
سربراہ اجلاس کے موقع پر ہونے والی یہ دوطرفہ ملاقاتیں اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ ایس سی او اجلاس رکن ممالک کو مشترکہ فورم کے علاوہ باہمی تعلقات اور دوطرفہ معاملات پر براہ راست بات چیت کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے باعث کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اجلاس کے دوران شہر کے بڑے شاپنگ مالز، بازاروں اور متعدد دیگر مقامات کو بند کر دیا گیا ہے۔
مناس ہوائی اڈے سے آنے اور جانے والی کمرشل پروازوں پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں آمدورفت کو محدود کیا جا رہا ہے۔
کرغز صدر صدر جباروف کے ترجمان عسکت الاگوزوف کے مطابق مرکزی بشکیک میں ٹریفک کی روانی پر وقفے وقفے سے پابندیاں برقرار رہیں گی۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر شہر میں آمدورفت سے گریز کریں اور ممکن ہو تو دارالحکومت سے باہر چلے جائیں۔
سربراہ اجلاس کے دوران سکیورٹی انتظامات کے باعث بشکیک میں معمولات زندگی بھی متاثر ہوئے ہیں۔
حکام نے نئے تعلیمی سال کے آغاز کو 15 ستمبر تک مؤخر کر دیا ہے، جبکہ منگل کے روز بشکیک میں سرکاری شعبے اور سرکاری ملازمین کے لیے عام تعطیل کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات ہے اور اہم سرکاری و سفارتی مقامات کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ایس سی او کی ایک سالہ سربراہی سنبھالنا پاکستان کے لیے اہم سفارتی موقع قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان تنظیم کے پلیٹ فارم کو علاقائی امن، اقتصادی روابط، تجارت، سرمایہ کاری اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ رابطوں کو فروغ دینے کے لیے اہم سمجھتا ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے چین، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور دیگر خطوں کے درمیان رابطے کے حوالے سے خصوصی اہمیت دیتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت کے دوران ایس سی او کے ایجنڈے میں علاقائی رابطوں، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دیے جانے کی توقع ہے۔
بشکیک میں جاری سربراہ اجلاس کے دوران اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر رکن ممالک کے درمیان تبادلہ خیال ہوگا، جبکہ اجلاس کے اختتام پر تنظیم کی آئندہ ترجیحات اور تعاون کے حوالے سے اہم فیصلے سامنے آنے کا امکان ہے۔







