34 سالہ اسما مشتاق 20 اگست کو اسپانٹک چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران تقریباً 6 ہزار 400 میٹر کی بلندی پر شدید بلند مقام کی بیماری میں مبتلا ہو کر انتقال کرگئی تھیں۔
الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل ایاز شگری کے مطابق شگر سے تعلق رکھنے والے بلند پہاڑی علاقوں میں کوہ پیمائی کے ماہرین پر مشتمل ٹیم نے جمعے کو اسما مشتاق کی میت کی تلاش اور واپسی کے لیے نیا آپریشن شروع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی میت واپس لانے کی کوششیں کی گئی تھیں، تاہم شدید برفباری اور خراب موسمی حالات کے باعث یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوسکی تھیں۔
ایاز شگری کے مطابق نئی ریسکیو ٹیم نے اپنی مدد آپ کے تحت آپریشن مکمل کیا۔ ٹیم کے ارکان کا تعلق شگر کے علاقے ارندو سے تھا۔
ریسکیو ٹیم نے پیر کی صبح 3 بجے سرچ آپریشن شروع کیا اور تقریباً 8 گھنٹے کی تلاش کے بعد صبح 11 بجے کیمپ 3 کے قریب سے اسما مشتاق کی میت تلاش کرلی۔ یہ مقام تقریباً 6 ہزار 250 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔
ایاز شگری کے مطابق میت کو پیر ہی کے روز کیمپ 2 تک لانے کی کوشش کی جائے گی، جس کے بعد اسے بیس کیمپ منتقل کیا جائے گا۔ بیس کیمپ پہنچنے پر پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے میت کو اسکردو منتقل کیے جانے کی توقع ہے۔
اسما مشتاق 5 رکنی پاکستانی خواتین کوہ پیماؤں کی اس مہم کا حصہ تھیں، جس نے 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی سر کی تھی۔ ان کے ہمراہ زونی اسلم، زبا شگری، شما اور سوہانا بھی مہم میں شامل تھیں۔
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق اسما مشتاق نے کامیابی سے اسپانٹک چوٹی سر کی تھی اور اس وقت ان کی صحت بھی بہتر تھی، تاہم واپسی کے دوران انہیں شدید طبی ہنگامی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔
ماہرین کے مطابق 6 ہزار میٹر سے زیادہ بلندی سے کسی کوہ پیما کی میت واپس لانا انتہائی خطرناک اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے، جبکہ شدید برفباری اور خراب موسم ریسکیو آپریشن کو مزید دشوار بنا دیتے ہیں۔







