محکمہ موسمیات کے مطابق راولپنڈی میں بارش رات 3 بج کر 20 منٹ پر شروع ہوئی جو صبح 8 بجے تک جاری رہی۔ شدید بارش کے بعد شہر کی متعدد سڑکوں اور نشیبی علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا، جبکہ بعض مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کیپٹن ریٹائرڈ ندیم ناصر کے مطابق شہر میں 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ تین سال کے دوران ایک دن میں ریکارڈ ہونے والی سب سے زیادہ بارش ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بارش کا سب سے زیادہ اثر نالہ لئی پر پڑا ہے۔ نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث اس میں گرنے والے بعض نالوں میں بیک فلو ہوا، جس سے پانی آبادیوں میں داخل ہوگیا۔
ڈی سی راولپنڈی کے مطابق کٹاریاں کے مقام پر نالہ لئی میں پانی کی سطح 29 فٹ تک پہنچ گئی جبکہ گوالمنڈی پل کے مقام پر پانی کی سطح 24 فٹ ریکارڈ کی گئی۔ پانی کی سطح خطرناک حد سے تجاوز کرنے کے بعد نالہ لئی کے اطراف میں رہنے والے شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نشیبی علاقوں سے شہریوں کے انخلا اور نکاسی آب کے لیے ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں، جبکہ پاک فوج، ریسکیو 1122، پیرا اور دیگر متعلقہ ادارے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
ندیم ناصر کا کہنا تھا کہ ٹرپل ون بریگیڈ بھی انتظامیہ سے رابطے میں ہے اور نالہ لئی اور گوالمنڈی کے اطراف میں پاک فوج کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق اب تک دو ایمرجنسی کالز موصول ہوئی ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ادارے تیار ہیں۔
ڈی سی راولپنڈی نے امید ظاہر کی کہ نالہ لئی میں پانی کی سطح کم ہونے کے بعد نشیبی علاقوں سے بھی پانی نکلنا شروع ہوجائے گا اور صورتحال ایک گھنٹے میں معمول پر آنا شروع ہو جائے گی۔
شدید بارش اور سڑکوں پر پانی جمع ہونے کے باعث شہریوں اور طلبہ کو مشکلات سے بچانے کے لیے شہر کے علاقوں میں تعلیمی ادارے آج بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق عام شاہراہوں پر بھی پانی جمع ہے، جس کے باعث بچوں کے اسکول آنے اور واپس جانے میں مشکلات کا خدشہ تھا۔







