لاہور سے صحافی علی رضا رحمانی کے مطابق ریلوے اسٹیشن کے باہر درختوں کی کٹائی ایسے وقت میں کی گئی جب اس حوالے سے واضح عدالتی احکامات موجود تھے۔ 

دوسری جانب لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ لاہور ریلوے اسٹیشن اپ گریڈیشن منصوبے کے دوران ان کے محکمے کی جانب سے کوئی درخت نہیں کاٹا گیا۔

اسی طرح پاکستان ریلوے کے ترجمان نے بھی ریلوے اسٹیشن کی حدود میں درختوں کی کٹائی سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کسی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

محکمہ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) 12 جنوری کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن اور عدالتی احکامات کے باوجود درختوں کی کٹائی روکنے میں ناکام رہا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو اسپتال لائے اور واپس جیل بھی لے گئے، اس حوالے سے ہمیں کیوں نہیں بتایا گیا؟ اپوزیشن اتحاد

 واقعے پر مؤقف جاننے کے لیے پی ایچ اے سے متعدد بار رابطہ کیا گیا، تاہم ادارے کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا۔

اس واقعے نے شہر میں ماحولیاتی تحفظ اور عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے لاہور میں سرکاری جامعہ، جامعہ پنجاب میں پچاس درخت کاٹ دیے گئے تھے، جس کے بعد حکام نے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی تھی۔ اسی طرح اس سے پہلے ناصر باغ میں بھی درختوں کی بے دریغ کٹائی دیکھنے میں آئی تھی۔

واضح رہے کہ درختوں کی کٹائی کے بعد متعلقہ ادارے عموماً صرف لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں، تاہم اس کے باوجود اسی نوعیت کے واقعات بار بار سامنے آ رہے ہیں، جو اداروں کی کارکردگی اور عملداری پر سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں۔