ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کی گئی رپورٹ میں تحقیقاتی ٹیم نے حادثے کے تکنیکی، انتظامی اور فنی پہلوؤں کا جائزہ شامل کیا ہے، جبکہ واقعے کے بعد جاری قانونی کارروائی سے متعلق پیش رفت بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب چھت پر تعمیراتی کام کے دوران ضرورت سے زیادہ مٹی ڈال دی گئی، جس سے ٹی آئرن اور گارڈر پر مشتمل ڈھانچہ اضافی دباؤ برداشت نہ کر سکا اور اچانک منہدم ہو گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ واقعے کے وقت ایک خاتون ٹیچر اور 20 بچے چھت کے نیچے موجود تھے، جن میں سے متعدد بچے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوئے۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اموات سر اور جسم پر شدید چوٹیں لگنے کے باعث ہوئیں۔
تحقیقاتی ٹیم نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ فی الحال کسی سرکاری ادارے یا افسر کی براہ راست غفلت سامنے نہیں آئی، تاہم نجی سطح پر تعمیراتی اصولوں کی خلاف ورزی اور حفاظتی انتظامات میں سنگین کوتاہی واضح طور پر پائی گئی ہے۔
دوسری جانب واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے اور گھر کے مالک، اس کے بھائی سمیت پانچ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق گرفتار افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے جبکہ تعمیراتی کام سے متعلق اجازت ناموں اور ڈھانچے کی منظوری کے ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے رپورٹ موصول ہونے کے بعد متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ واقعے میں کسی بھی سطح پر غفلت ثابت ہونے پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
مزید پڑھیں: لاہور: کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی عمارت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، مالک مکان سمیت دو افراد گرفتار
ادھر علاقے میں افسوسناک واقعے کے بعد فضا سوگوار ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
انتظامیہ کے مطابق واقعے کی مکمل اور حتمی تحقیقاتی رپورٹ آئندہ دنوں میں مرتب کر کے پیش کی جائے گی، جس میں مزید انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ کمزور یا محدود بوجھ برداشت کرنے والے ڈھانچے پر اضافی مٹی ڈالنا انجینئرنگ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے نتیجے میں یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔







