میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور بیک ڈور رابطوں کا سلسلہ جاری ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں مذاکرات کے لیے لانگ مارچ سے متعلق پی ٹی آئی کے فیصلے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے بھی پی ٹی آئی قیادت سے رابطے کیے گئے ہیں، تاہم ان کے مطابق ابھی تک اس حوالے سے کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی، اگر لانگ مارچ مؤخر کرنے کے معاملے پر بات آگے بڑھتی ہے تو وزیراعظم سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
اسلام آباد میں سیکیورٹی انتظامات سے متعلق سوال پر وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ دارالحکومت میں رکھے گئے کنٹینرز حفاظتی اقدامات کا حصہ ہیں، کنٹینرز سڑکوں کے کنارے موجود ہیں اور اہم شاہراہیں کھلی ہیں، تاہم حکومت نے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کے حوالے سے بیانات تو دیے جارہے ہیں، لیکن ان کے خیال میں عملی طور پر مارچ نہیں ہوگا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ پارٹی قیادت کی جانب سے اس حوالے سے تیاریوں اور کارکنوں کو متحرک کرنے کے بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ حکومت احتجاج کے سیاسی حق اور امن و امان کے تقاضوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اسلام آباد میں کسی کو زبردستی داخل ہونے یا قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی اور کسی بھی ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی جس سے شہریوں، سرکاری املاک یا معمولاتِ زندگی متاثر ہوں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال دے رکھی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ اس معاملے سے متعلق اپنے فیصلے میں پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو سڑکوں، شاہراہوں یا دیگر عوامی مقامات پر قبضے کا قانونی حق حاصل نہیں، جبکہ عدالت نے صوبائی حکومتوں کو احتجاج کے لیے سرکاری مشینری استعمال نہ ہونے کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی تھی۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطوں کے حوالے سے حالیہ رپورٹس میں بھی بتایا گیا ہے کہ دونوں جانب سے غیر رسمی رابطے ہوئے ہیں، تاہم لانگ مارچ کے معاملے پر اختلاف برقرار ہے۔ حکام کی جانب سے مبینہ طور پر لانگ مارچ مؤخر کرنے کی صورت میں بعض معاملات پر رعایتوں کے امکانات بھی زیرِ بحث آئے ہیں، تاہم فریقین کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔
رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ حکومت مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتی، لیکن موجودہ حالات میں لانگ مارچ کی کال برقرار رہنے کی صورت میں باضابطہ مذاکرات آگے بڑھانا ممکن نہیں، سیاسی معاملات کا حل بات چیت سے نکالا جاسکتا ہے، تاہم اس کے لیے احتجاج اور مذاکرات کے حوالے سے واضح صورتحال ضروری ہے۔
وزیراعظم کے مشیر نے واضح کیا کہ اسلام آباد میں قانون کی عمل داری برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی سیاسی سرگرمی کے دوران امن و امان کو متاثر کرنے والی صورتحال سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کے حوالے سے مؤقف برقرار ہے اور پارٹی قیادت نے احتجاج کو اپنے سیاسی مطالبات کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ یوں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بیک ڈور رابطوں کے باوجود لانگ مارچ اور مذاکرات کا معاملہ بدستور سیاسی کشیدگی کا مرکزی نقطہ بنا ہوا ہے۔







