صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان خطے خصوصاً مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور انسانی تحفظ کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، دیرپا امن کا حصول صرف جنگ بندی سے نہیں بلکہ بامقصد مذاکرات، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان میں حالیہ جنگ بندی ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے جس سے تمام فریقین کو فائدہ اٹھاتے ہوئے اعتماد سازی کے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ صورتحال دوبارہ کشیدگی کی طرف نہ لوٹے، اس پیش رفت کو محض عارضی وقفہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے مستقل اور جامع امن عمل کی بنیاد بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل اور سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا آیا ہے اور اسی اصولی مؤقف کے تحت لبنان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مغربی ایشیا میں پائیدار امن صرف وقتی معاہدوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ان بنیادی مسائل کا حل ضروری ہے جو طویل عرصے سے تنازعات کو جنم دیتے رہے ہیں۔ جب تک ان جڑوں تک پہنچ کر مسائل حل نہیں کیے جاتے، اس وقت تک مکمل استحکام کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ہر اس اقدام کی حمایت کرتا رہے گا جو منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے قیام میں مددگار ثابت ہو۔
مزید پڑھیں: لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا، ٹرمپ
صدر آصف علی زرداری نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ موجودہ صورتحال میں تحمل، ذمہ داری اور بردباری کا مظاہرہ کریں تاکہ امن کے عمل کو نقصان نہ پہنچے اور خطے میں استحکام کی جانب سفر جاری رہ سکے۔
واضح رہے کہ پاکستان کا یہ مؤقف اس کی روایتی سفارتی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس میں تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور امن کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جبکہ لبنان میں جنگ بندی کو پورے خطے میں وسیع تر سفارتی پیش رفت کے لیے ایک اہم موقع تصور کیا جا رہا ہے۔







