اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی حمایت کرتا ہے،لبنان سے متعلق جنگ بندی بھی اسی وسیع تر مذاکراتی فریم ورک کا حصہ ہے جس پر مختلف فریقین کام کر رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ حالیہ دنوں میں اسرائیل اور لبنان کے محاذ پر کشیدگی میں کمی کے آثار حوصلہ افزا ہیں، تاہم صورتحال اب بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی، جنگ بندی اور سفارتی کوششیں اگر تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں تو خطے میں امن کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔

بریفنگ کے دوران ترجمان نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان طویل اور سنجیدہ بات چیت ہوئی، تاہم فوری طور پر کسی بڑے بریک تھرو یا بریک ڈاؤن کی صورتحال سامنے نہیں آئی، م مذاکرات کا عمل جاری رہا اور دونوں فریقین نے سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

ترجمان کے مطابق بعض اوقات 21 گھنٹوں سے زائد طویل نشستیں بھی ہوئیں جن میں پیچیدہ امور پر تفصیلی غور کیا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ فریقین مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا کردار ہمیشہ سے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ثالثی اور سہولت کاری پر مبنی رہا ہے، اور اسلام آباد مستقبل میں بھی تہران اور واشنگٹن سمیت تمام متعلقہ فریقین کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی تفصیلات پر عوامی سطح پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس سے اعتماد سازی کے عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہ،  بعض معلومات فریقین کے درمیان امانت ہوتی ہیں، جنہیں غیر ضروری طور پر ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: 34 سال بعد لبنانی، اسرائیلی رہنما جمعرات کو مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

انہوں نے کہا کہ پاکستان امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس حوالے سے دوست اور اتحادی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ روس سمیت مختلف عالمی طاقتوں کی جانب سے امن عمل کی حمایت کو بھی اہم قرار دیا گیا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کا عمل اگر آگے بڑھتا ہے تو یہ پورے خطے کے لیے مثبت پیش رفت ہوگی، کیونکہ اس سے نہ صرف کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ بات چیت کے لیے ایک سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بعض اہم عالمی معاملات، جن میں جوہری مسئلہ بھی شامل ہے، مختلف سطحوں پر زیر بحث آ رہے ہیں۔

آخر میں ترجمان نے کہا کہ مذاکراتی عمل کے حوالے سے قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ آئندہ ملاقاتوں یا شیڈول کے بارے میں ابھی کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔