قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم عملی طور پر ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی، کیونکہ اس کے بعد اختیارات عوام تک منتقل ہونے کے بجائے صوبائی دارالحکومتوں تک محدود ہو کر رہ گئے،کراچی میں حالیہ واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں ایک مؤثر اور بااختیار لوکل گورنمنٹ سسٹم کی اشد ضرورت ہے، جو اختیارات کو صوبائی سطح سے نیچے ضلع، تحصیل اور وارڈ کی سطح تک منتقل کرسکے۔

انہوں  نے کہا کہ ملک میں یا تو لوکل گورنمنٹ کا نظام موجود ہی نہیں، اور جہاں کسی حد تک موجود ہے وہاں اختیارات نہ ہونے کے برابر ہیں، اگر پاکستانی عوام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانا ہے تو مضبوط، فعال اور خودمختار لوکل گورنمنٹ سسٹم کا نفاذ ناگزیر ہے۔

انہوں نے ایوان میں کہا کہ جب تک پاکستان کے 25 کروڑ عوام کو نچلی سطح پر اختیار نہیں دیا جاتا، تب تک یہ پارلیمنٹ بھی بے معنی رہے گی۔ اگر ہم واقعی عوام کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے گلی، محلے اور وارڈ کی سطح پر عوامی نمائندگی دینا ہوگی،مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب گلی محلے کی سطح پر نمائندگی نہیں ہوگی تو وہاں فائر بریگیڈ بھی موجود نہیں ہوگا، اور پھر وفاقی وزارتیں آگ بجھانے کے لیے حرکت میں آئیں گی۔

مزید پڑھیں: یہ وہی حکومت ہے جس کے سربراہ “ونڈر بوائے” بننے کے خواہشمند بلاول بھٹو ہیں, حافظ نعیم کا گل پلازہ واقعے پر اظہارِ افسوس

انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ 28ویں ترمیم میں لوکل گورنمنٹ کو آئینی تحفظ دینے اور اسے بااختیار بنانے کی تجویز شامل تھی اور اس پر سیاسی اتفاق بھی پایا جاتا تھا، مگر بعد میں حکومت اس فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئی۔

وزیر دفاع نے اس صورتحال کو ستم ظریفی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جب بھی فوجی آمریت آئی، اس نے بااختیار لوکل گورنمنٹ کا نظام متعارف کرایا۔ جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں بلدیاتی نظام فعال رہا اور باقاعدگی سے ہر پانچ سال بعد انتخابات ہوتے رہے۔ اس کے برعکس جمہوری حکومتیں لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کرانے سے گریز کرتی رہی ہیں،جب کبھی لوکل گورنمنٹ الیکشنز کا شیڈول آتا ہے تو صوبائی دارالحکومت کسی نہ کسی بہانے سے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے سے ہچکچاتے ہیں اور پوری کوشش کی جاتی ہے کہ پاور گراس روٹ لیول تک نہ جائے۔

انہوں  نے عالمی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ لوکل گورنمنٹ کے نظام سے گزر کر اوپر آئے اور ایک منظم پراسیس کے تحت ملک کے صدر بنے۔ چینی قیادت پیرا شوٹ کے ذریعے مسلط نہیں ہوئی بلکہ نچلی سطح سے ابھر کر سامنے آئی۔

انہوں نے کراچی میں آتشزدگی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آگ بجھانے میں ناکامی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک کو ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں ہر ضلع، تحصیل اور محلے میں لوکل گورنمنٹ کا منتخب نمائندہ موجود ہو، اور عوام کو شکایت کی صورت میں اس نمائندے تک براہِ راست رسائی حاصل ہو۔ ان کے مطابق اسی نظام کے ذریعے عوام کے مسائل حل ہوں گے، لوگ بااختیار ہوں گے اور انہیں ان کے حقوق مل سکیں گے۔ خواجہ آصف نے کراچی کے واقعے کو خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں۔

انہوں  نے مطالبہ کیا کہ ایک بامعنی آئینی ترمیم کے ذریعے ملک بھر میں مضبوط اور بااختیار لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کرایا جائے تاکہ پوری قوم کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی خواہش تھی کہ گوادر سے گلگت تک یکساں نصابِ تعلیم نافذ کیا جائے تاکہ نئی نسل میں پاکستانیت کے ساتھ ساتھ صوبائی شناخت بھی پروان چڑھے۔ ان کے مطابق اس میں مفادات کا کوئی تصادم نہیں تھا کیونکہ نصابِ تعلیم قومی شناخت کی بنیاد ہوتا ہے، تاہم بدقسمتی سے اس معاملے پر بھی اتفاقِ رائے نہ ہوسکا اور اسے ترک کرنا پڑا۔