لیسکو کے مطابق نئی بلنگ پالیسی جنوری 2026 کے بلنگ سائیکل سے نافذ العمل ہوگی اور اس کے تحت صارفین کی بجلی کی پیداوار کو کمپنی کی منظور شدہ ڈی جی (ڈسٹریبیوٹڈ جنریشن) کیپیسٹی کے مطابق محدود کیا جائے گا، صارفین صرف اپنی منظور شدہ ڈی جی کیپیسٹی کے مطابق اضافی ایکسپورٹ کر سکیں گے اور اضافی یونٹس پر پابندی عائد ہوگی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ میں ناکامی، معاملہ وزارت نجکاری کے سپرد، خواجہ آصف
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ سی پی 22 کے تحت ایکسپورٹ یونٹس کی ایڈجسٹمنٹ کا سلسلہ جاری رہے گا، اور نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ایکسپورٹ ایم ڈی آئی (میٹر ڈیٹا انڈیکس) کی درست اندراج یقینی بنائیں تاکہ کسی قسم کے مسائل یا اضافی چارجز سے بچا جا سکے۔
لیسکو کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کا مقصد نیٹ میٹرنگ سسٹمز کے تحت بجلی کی پیداوار اور استعمال کو منظم کرنا اور صارفین کو متوازن اور شفاف بلنگ فراہم کرنا ہے۔ کمپنی نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی موجودہ نیٹ میٹرنگ کیپیسٹی اور بلنگ کا جائزہ لیں اور نئی پالیسی کے مطابق ضروری اقدامات کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے آمدنی پر معمولی فرق پڑ سکتا ہے، مگر یہ اقدام بجلی کے مستحکم نظام اور صارفین کے لیے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے۔







