حافظ نعیم الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں تین کروڑ بچے اسکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے، جب کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ بارہ برسوں سے حکومت قائم ہے مگر اب بھی سینتیس فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہی بارہ سالوں میں سترہ لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں، جب کہ پنجاب میں ایک کروڑ بچے اسکول نہیں جا رہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ کی کمی نہیں، مگر تعلیم کو تجارت بنا دیا گیا ہے۔ سرکاری جامعات میں مڈل کلاس طبقہ بھی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم ہمارا حق ہے، ہمیں خیرات نہیں چاہیے۔ حافظ نعیم الرحمان نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک بدلنے کی اس تحریک میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔
انہوں نے بتایا کہ بغیر کسی حکومتی سرپرستی کے گیارہ لاکھ طلبہ بنو قابل پروگرام کے لیے رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، جو پاکستان کا مستقبل اور ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔ جماعت اسلامی کا ہدف ہے کہ آئندہ دو سالوں میں بیس لاکھ طلبہ کو مختلف کورسز کی تربیت فراہم کی جائے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں سینکڑوں اسکولوں کی عمارتیں مخدوش حالت میں ہیں اور حکومت کو تعلیم کے میدان میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ایسا نظام لانا چاہتی ہے جہاں فیصلے عوامی نمائندے کریں، چند اشرافیہ نہیں۔ ملک کو جاگیرداری، وڈیرا شاہی اور آئی ایم ایف کی غلامی سے آزاد کرایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مزدوروں، کسانوں اور عام عوام کے حقوق کے لیے ایک بڑی تحریک کا آغاز مینار پاکستان سے کیا جائے گا، جو نظام کی تبدیلی کی تحریک ہوگی۔
حافظ نعیم الرحمان نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں، تعلیم کو فروغ دیں اور منشیات سے دور رہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنو قابل پروگرام پاکستان کا نقشہ بدل دے گا، اور نوجوانوں کو اپنے مستقبل کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔







