ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ معرکۂ حق میں اللہ تعالیٰ کی مدد سے پاکستان کو کامیابی ملی، جبکہ ملک بھر میں معرکۂ حق سے متعلق تقریبات ہو رہی ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ معرکۂ حق میں انڈیا کے اہم اہداف ہمارے نشانے پر تھے۔ اگر جنگ بندی نہ ہوتی تو انڈیا کا بہت زیادہ نقصان ہوتا۔ اب انڈیا پاکستان کے خلاف مزید کوئی مہم جوئی کرنے سے پہلے کئی بار سوچے گا۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا نے چھوٹے اور درمیانے سائز کے ڈرون ہمارے مختلف علاقوں میں بھیجے۔ انڈین ڈرون محدود تعداد میں پاکستان پہنچے، جبکہ اکثر ڈرونز کو بارڈر پر ہماری رینجرز نے تباہ کر دیا۔ انڈیا کی کوشش تھی کہ سائبر حملے کرے، لیکن سائبر حملوں میں انڈیا ہمارے قریب بھی نہیں آ سکا۔

انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے معرکۂ حق میں قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ ہم نے معرکۂ حق میں کیا کیا۔ پاکستان اور انڈیا کی جنگ میں ڈرونز کا استعمال بہت زیادہ ہوا، جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

محسن نقوی نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ جنگ میں پاکستانی میڈیا کا کردار قابلِ تعریف رہا۔ ہمارے میڈیا نے ایک پیغام کے ذریعے پوری قوم کو متحد کیا۔ معرکۂ حق میں پاکستانی میڈیا کے کردار کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی، جبکہ انڈین میڈیا مسلسل کنفیوژن کا شکار رہا۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا نے جنگ بندی سے قبل ہماری بیس پر حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں ہم نے کارروائی کی اور ان کا سب سے بڑا آئل ڈپو تباہ ہو گیا۔ درجنوں ایسے واقعات ہوئے کہ انسان سوچتا ہے یہ کیسے ممکن ہو سکتا تھا۔ انڈیا کے بڑے اہداف ہمارے نشانے پر تھے، ان کے جہاز اور بحری تنصیبات بھی ہماری زد میں تھیں، اسی لیے انڈیا جنگ بندی کرانے پہنچا۔

محسن نقوی نے کہا کہ ہمارے سکیورٹی اداروں کا آپریشن بنیان مرصوص میں مرکزی کردار تھا۔ اگر پہلے سے معلوم ہو کہ کیا ہونے والا ہے تو تیاری مکمل ہوتی ہے۔ ہمیں انڈیا سے ہر تفصیل موصول ہو رہی تھی، جبکہ ہماری خفیہ ایجنسیوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ پاک، انڈیا جنگ کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے انڈیا کو بڑے نقصان سے بچایا۔ معرکۂ حق میں انڈیا کو اتنا نقصان پہنچا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف مزید کسی مہم جوئی سے پہلے کئی بار سوچے گا۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ میں نے امریکا، ایران معاملات کو ٹوٹتے اور جڑتے دیکھا ہے۔ امریکا ایران جنگ بندی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں پر بھروسہ رکھیں۔