اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی  نے کہا کہ انٹیلیجنس اداروں نے جنگی صورتحال کے دوران انتہائی حساس اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کیں، جن کی بنیاد پر نہ صرف پیشگی تیاری ممکن ہوئی بلکہ آپریشنز کے نتائج بھی نمایاں طور پر بہتر رہے۔ ان کے مطابق فراہم کردہ معلومات بڑی حد تک درست ثابت ہوئیں، جس سے دفاعی حکمت عملی کو مضبوط بنیاد ملی۔

محسن نقوی نے بتایا کہ اس دوران دشمن کی جانب سے ڈرونز کے ذریعے مختلف علاقوں میں حملوں کی کوشش کی گئی، تاہم پاکستان کے جدید دفاعی نظام اور زمینی فورسز نے ان کوششوں کو مؤثر انداز میں ناکام بنایا، دشمن نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈرونز استعمال کیے، مگر پاکستان کے دفاعی ردعمل نے صورتحال کو کنٹرول میں رکھا۔

وزیر داخلہ کے مطابق سرحدی علاقوں میں رینجرز نے بھی غیر معمولی چوکسی کا مظاہرہ کیا اور متعدد ڈرونز کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے گرا دیا، زمینی سطح پر تعینات اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت نے بڑے نقصان کو روکا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران تقریباً 100 پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم پاک افواج نے مؤثر جواب دیتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر دشمن کو لائن آف کنٹرول پر سفید جھنڈا لہرانا پڑا، جو ان کی پسپائی کا واضح ثبوت تھا۔

محسن نقوی نے کہا کہ اس جنگ میں سائبر حملوں کی کوششیں بھی کی گئیں، تاہم پاکستان کے سائبر دفاعی نظام نے انہیں ناکام بنا دیا،  جدید جنگوں میں سائبر حملے ایک اہم ہتھیار بن چکے ہیں، لیکن پاکستان نے اس میدان میں بھی اپنی برتری ثابت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی میڈیا نے اس دوران ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے قومی اتحاد کو مضبوط کیا، جبکہ دوسری جانب بھارتی میڈیا کنفیوژن کا شکار رہا اور غلط معلومات پھیلاتا رہا۔

مزید پڑھیں: ’معرکہ حق کا ایک سال مکمل، پاکستان ہمیشہ زندہ باد‘، دفتر خارجہ

وفاقی وزیر نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران ایسے کئی مواقع آئے جب صورتحال انتہائی حساس ہو گئی تھی، تاہم قیادت کے بروقت فیصلوں اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے معاملات کو سنبھال لیا گیا۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے قریب پہنچے مگر بعد میں دوبارہ بحال ہو گئے۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ ایک موقع پر بلوچستان کے ایک حساس فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا گیا، تاہم بیشتر میزائل اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکے اور صرف محدود نقصان ہوا۔ ان کے مطابق پاکستان کا دفاعی ردعمل انتہائی درست اور مؤثر تھا۔

محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نے جوابی کارروائی میں دشمن کے اہم عسکری اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا، تاہم اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ شہری آبادی متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ درست ہدف بندی کے باعث بڑے نقصانات سے بچاؤ ممکن ہوا۔

آخر میں وزیر داخلہ نے کہا کہ بعض مواقع پر دشمن کو احساس ہوا کہ صورتحال اس کے کنٹرول سے باہر ہو رہی ہے، جس کے بعد کشیدگی کم کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں۔

 محسن نقوی نے کہا کہ معرکہ حق میں کامیابی جدید ٹیکنالوجی، بروقت فیصلوں، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی اتحاد کا نتیجہ ہے، جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔