سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق نجی ہوٹل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ بیانیہ اور عسکری سطح پر پاکستان کی عزت، وقار اور منفرد مقام مزید مستحکم ہوا ہے، جہاں پاکستانی پاسپورٹ اور سبز ہلالی پرچم کو بھی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، آج دنیا بھر میں لوگ پاکستان کے ساتھ وابستگی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرحد کے اُس پار تاریکی، تنہائی، ناکامی اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں، ہمارے جے ٹین سی طیاروں اور فتح میزائل نے دشمن کی نام نہاد چمک دمک کو راکھ میں بدل دیا۔ آج پاکستان روشن اور باوقار مقام پر کھڑا ہے، جب کہ مشرقی جانب خاموشی اور تاریکی چھائی ہوئی ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ معرکۂ حق متعدد محاذوں پر لڑا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا کے سامنے یہ مؤقف پیش کیا کہ پہلگام واقعہ ایک فالس فلیگ آپریشن تھا اور اس کی شفاف و منصفانہ تحقیقات کرائی جائیں، مگر اس کا کوئی جواب نہیں آیا، یہ واقعہ ایسے بھونڈے انداز میں انجام دیا گیا کہ محض دس منٹ کے اندر اس کی ایف آئی آر درج کر دی گئی، جس سے پورا معاملہ ایک مذاق بن کر رہ گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پہلگام واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نشانہ بننے والوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیرِاطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے، جب کہ مشرقی سرحد کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت تو درکنار، کبھی تشویش کا اظہار بھی نہیں کیا گیا اور یہی بنیادی فرق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک جانب پاکستان کی ریاست ہے جو دہشت گردوں اور دہشت گردی کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہے، پاکستان کا ہر طبقہ اس جنگ میں قربانیاں دے رہا ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول کا سانحہ پوری دنیا کے سامنے ہے، جعفر ایکسپریس کا واقعہ بھی سب کے علم میں ہے۔ ہمارا ہر طبقہ قربانیاں دے رہا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ دوسری جانب ایک ایسا ملک ہے جس کے کردار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کبھی ہم کلبھوشن یادیو کو گرفتار کرتے ہیں اور کبھی ابھی نندن پکڑا جاتا ہے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ ہمارے اندر اتنی بردباری اور وقار ہے کہ جب ان کا پائلٹ ہماری تحویل میں آیا تو ہم نے اسے چائے پلائی اور عزت و احترام کے ساتھ واپس کیا، کوئی اور ہوتا تو وہ واپس جا کر ایوارڈ نہ لیتا۔

انہوں نے طنزیہ انداز اپناتے ہوءے کہا کہ یہ عجیب قوم ہے، ان کا جہاز گرا، ہم نے ان کے پائلٹ کو چائی پلائی اور بحفاظت واپس کیا اور واپس جا کر وہ ایوارڈ بھی لے رہا ہے۔

عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ انڈیا دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے، جب کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے۔ اس کے اثرات دیگر ممالک تک بھی پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا واقعہ دنیا کے سامنے ہے۔ سکھوں کے خلاف کارروائیاں صرف انڈیا کے مشرقی پنجاب تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کے اثرات برطانیہ، کینیڈا اور امریکا تک پھیل چکے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ معرکۂ حق میں سفارتی محاذ پر کامیابی کے بعد پاکستان بیانیے کے محاذ پر بھی سرخرو ہوا۔ ہمارے ملک کے نوجوانوں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جنگ کے دوران بہترین کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی معرکۂ حق کی تاریخ لکھی جائے گی تو جنریشن زی، سوشل میڈیا انفلوئنسرز، سوشل میڈیا صارفین اور ان کی خدمات سنہری حروف میں درج کی جائیں گی۔

 عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ ایک جانب سخت نوعیت کی روایتی جنگ جاری تھی جب کہ دوسری جانب میم وار بھی چل رہی تھی۔ انڈیا میں قوم اس بات پر پریشان تھی کہ یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے جنگ جیسے سنجیدہ ماحول میں بھی ہمارے دعوئوں کا مذاق اڑایا۔

انہوں نے کہا کہ جس انداز میں ہماری نوجوان نسل نے انڈین میڈیا کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ انڈین میڈیا کا بیانیہ اس قدر جھوٹ پر مبنی تھا کہ انہوں نے لاہور اور ملتان جیسے لینڈ لاک شہروں کی بندرگاہیں تک تباہ کرنے کے دعوے بھی کیے۔