لاہور کے ٹاؤن ہال میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ جنگوں اور مسلح تصادم کے سخت مخالف ہیں کیونکہ جنگیں ہمیشہ تباہی، بارود اور انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتی ہیں، ان کی اولین ترجیح تعلیم، صحت اور ایک محفوظ معاشرہ ہے تاکہ آنے والی نسلیں بہتر مستقبل حاصل کر سکیں۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ جب وہ فلسطین اور ایران میں جاری تباہی اور انسانی المیے کی تصاویر دیکھتے ہیں تو ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ اگر ایسے حالات پاکستان کے شہر لاہور میں ہوں تو عوام کس کرب سے گزریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی احساس انہیں جنگ کے خلاف مزید مضبوط مؤقف اپنانے پر مجبور کرتا ہے۔

اسپیکر نے کہا کہ پاکستان کو ماضی میں بغیر شواہد کے دہشتگردی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ملک نے ہمیشہ شفاف تحقیقات اور ثبوتوں کی بنیاد پر بات کرنے کا مؤقف اپنایا، آج تک بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف لگائے گئے الزامات کے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، جن میں اسکولوں، مساجد اور عام شہریوں کی شہادتیں شامل ہیں، ایک لاکھ سے زائد جانوں کی قربانی دے کر دہشتگردی کے ناسور کا مقابلہ کیا ہے، جو دنیا میں کسی بھی ملک کی بڑی قربانیوں میں شمار ہوتا ہے۔

ملک محمد احمد خان نے کہا کہ اگر خدانخواستہ ایٹمی جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوں گے اور کروڑوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے امن کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں: مشکل حالات کے باوجود معیشت درست سمت پر گامزن ہے، وزیر خزانہ

پاکستان نے سفارتی محاذ پر بھی مؤثر کردار ادا کیا ہے، مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا اور اس کے مؤقف کو تفصیل سے سنا اور سمجھا۔ ان کے مطابق میڈیا، سفارتی حلقوں اور عسکری قیادت نے بھی پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں عالمی سطح پر پیش کیا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ “معرکۂ حق” صرف عسکری حکمت عملی نہیں بلکہ پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کا ایک فیصلہ کن مرحلہ تھا، جس نے ملک کے موقف کو عالمی سطح پر مضبوط بنایا۔

وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس موقع پر نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی محاذ پر بھی کامیاب حکمت عملی اپنائی۔