سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق کراچی میں رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کی معاشی موضوعات پر مبنی کتاب ’معیشت اور پارلیمنٹ‘ کی تقریبِ رونمائی سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی خودنوشت ’چاہِ یوسف سے صدا‘ کی تحریر کا آغاز قید کے دوران کیا تھا۔

سابق وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ سفرنامہ لکھنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے، تاہم اپنی زندگی کو تاریخ کے آئینے میں پیش کرنا ایک مشکل مگر اہم ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی کتاب، خودنوشت یا تحریر میں صدق اور حقیقت پسندی بنیادی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ مصنف پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تاریخ کے ساتھ دیانت داری سے پیش آئے۔ اپنی زندگی اور تجربات کو تاریخ کے تناظر میں قلم بند کرنا جرات، تسلسل اور مستقل مزاجی کا تقاضا کرتا ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے معیشت اور پارلیمنٹ کے باہمی تعلق کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ قومی مسائل کا حل اجتماعی سوچ، مکالمے اور مشترکہ تجربات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے پارلیمانی امور پر مزید معیاری ادب کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسی تحریریں نوجوان نسل کو ملکی سیاسی اور جمہوری نظام کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کریں گی۔ انہوں نے ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کو کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے ایک اہم اور قابلِ مطالعہ کاوش قرار دیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ ’معیشت اور پارلیمنٹ‘ میری گیارہویں کتاب ہے۔ گزشتہ 23 برسوں کے دوران میں حکمرانی، بزنس کمیونٹی اور معیشت سے متعلق ایک ہزار سے زائد کالم تحریر کر چکا ہوں۔ انہوں نے اپنی خودنوشت  لیمٹ لیس  کا بھی ذکر کیا، جس میں اس یقین کا اظہار کیا گیا ہے کہ پاکستانی ہونے کی کوئی حد نہیں ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ تقریب میں وزیراعظم آزاد کشمیر، چین کے قونصل جنرل، عراق کے قونصل جنرل، مراکش میں پاکستان کے قونصل جنرل، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، صوبائی وزیر سندھ ناصر حسین شاہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر اور نفیسہ شاہ، نامور ادیب انور مقصود، معروف صحافی حما بقائی سمیت سیاسی، سفارتی، علمی اور صحافتی حلقوں کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔